حکومت عوامی فیصلے کرنے میں ناکام

حکومت عوامی فیصلے کرنے میں ناکام

عمران خان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اداروں سے لڑائی ان کے اور ان کی جماعت کے حق میں نہیں ،انہیں اپنے بیانیہ کی اصلاح کرلینی چاہئے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے ،عمران خان جو کہتے ہیں وہ منٹوں میں لاکھوں کروڑوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور ویسے بھی کپتان اور ان کی ٹیم بیانیہ بنانے کی ماہر ہے ۔وہ جو کہتے ہیں کھل کر کہتے ہیںاور ڈٹ کر کرتے ہیں ۔ان کا ووٹر ان کی ہر بات پر آنکھ بند کر کے یقین کرتا ہے۔

اب یہ شاید عمران خان کی مقبولیت ہے کہ حکومت اور اتحادی جو الیکشن کمیشن کے فیصلے کیلئے زور دار مطالبے کررہے تھے ابھی تک عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف کوئی ڈیکلر یشن جاری نہیں کرسکے۔عمران خان نے بھی کامیاب جلسے کے بعد فوری الیکشن کے لئے حکومت مخالف تحریک کا اعلان کرنے کی بجائے مزید جلسوں کا اعلان کردیا ہے ۔وہ اپنے کامیاب جلسوں سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ مقبول ترین لیڈر ہیں اور ان کے خلاف کوئی بھی ایکشن سیاسی انتشار کا باعث بنے گا۔ اس لئے وہ اپنے لیے بندہوتے دروازے دوبارہ کھولنے کی کوشش کررہے ہیں اور عوامی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔عمران خان کو خدشہ ہے کہ نوازشریف کو پاکستان لانے کیلئے ان کے گرد جال بنا جارہا ہے ،توشہ خانہ کیس اور نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ قانون اور انصاف تو سب کے لئے برابر ہے ۔نوازشریف کو اقتدار سے نکالنے کیلئے جو جوازڈھونڈے گئے ایک معمولی سی غلطی پر انہیں نہ صرف اقتدار سے نکالا گیا بلکہ تاحیات نااہل بھی کردیا گیا ۔اب ایک دانستہ غلطی کو کیوں کراور کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے ؟بدقسمتی سے ادارے متنازع ہیں،پہلی بار ان پر کھل کر جانبداری کے الزامات لگ رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے مسلسل تنقید کا نشانہ ہیں۔آنے والے چند ماہ ملکی سیاست اور اداروں کے لئے بہت اہم ہیں ،اس لئے سیاسی قیادت کو سوچ سمجھ کر اقدامات کرنے چاہئیں ۔

معیشت کے حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں ،ڈالر روپے کے مقابلے میں مسلسل پسپائی کا شکارہے ،آنے والے دنوں میں آئی ایم ایف کا پیکج ملتے ہی معاشی معاملات مزید بہتر ہوجائینگے۔ ان حالات میں شہبازحکومت کا ہی ’’ کمال‘‘ ہے کہ ایک بار پھر پیٹر ول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گررہی ہیں ۔ایسے میں عوام حکومت پر تنقید اور عمران خان کی پذیرائی کیوں نہ کریں ؟اس فیصلے کے نتائج بھی حکومت اور اتحادیوں کو آنے والے ضمنی الیکشن میں بھگتنے پڑیں گے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حکومت عمران خان کی مقبولیت کیلئے خود ہی گراؤنڈ بنارہی ہے اور اپنی سیاسی قبر کھود رہی ہے۔ پہلے مریم نواز نے اپنی ہی حکومت کیخلاف آوازاٹھائی پھر زرداری اور ایم کیوایم کی طرف سے شدید ردعمل آیا ۔نوازشریف اپنی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں تو ہیں لیکن شہبازشریف کی کچھ پالیسیوں سے خوش نہیں۔ نوازشریف کی شدید خواہش تھی کہ اسحاق ڈار واپس جاکر ملکی معیشت کے معاملات سنبھالیں لیکن شہبازشریف اور ان کی ہم خیال لیگی قیادت کے وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا ۔مفتاح اسماعیل نے بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا ملبہ شہبازشریف پر ڈال دیا ہے۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ سمری پر تو وزیراعظم دستخط کرتے ہیں وہ نہیں ۔ شہباز شریف کو اقتدار تو مل گیا لیکن مشکل فیصلوں کا نقصان یقینا مسلم لیگ (ن) کو اور فائدہ عمران خان کو ہورہا ہے۔