ریٹرننگ افسران کو متعدد حلقوں کے حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دیا گیا

ریٹرننگ افسران کو متعدد حلقوں کے حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دیا گیا

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بنچ نے این اے 48 میں نتائج کی مبینہ تبدیلی پر سماعت کی۔

تحریک انصاف کے امیدوار علی بخاری کے وکیل نے دلائل دیئے کہ علی بخاری فارم 45 کے مطابق کامیاب ہوئے، ریٹرننگ افسر نے ہماری استدعا کے برعکس فارم 47 جاری کر دیا، ہماری 50 ہزار کی لیڈ کو ختم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:این اے 15: الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر کو حتمی نتیجے سے روک دیا

الیکشن کمیشن نے استحکام پارٹی کے نامزد کامیاب آزاد امیدوار راجہ خرم نواز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کو اسلام آباد سے این اے 47 اور 48 کے حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔

اسی طرح پی کے 73، پی کے 79، 80 اور پی کے 82 کے بھی نتائج کے خلاف سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن نے دونوں حلقوں میں ریٹرننگ افسران کو حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دیا، پی کے 79سے تیمور سلیم اور پی کے 82 سے کامران بنگش نے نتائج کو چیلنج کیا ہے۔

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن میں این اے 28، این اے 49 اٹک ، این اے 50 اٹک، این اے 55 راولپنڈی، این اے 63 اور این اے 65 کے نتائج بھی چیلنج کر دیئے گئے۔

پی بی 01، پی پی 11، پی پی 20 ، پی پی 14 ،پی پی 16 ، پی پی 31، پی پی 33، پی پی 59 کے نتائج بھی الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیئے گئے۔

الیکشن کمیشن نے ملک بھر سے قومی اسمبلی کی 10 اور صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر آر اوز کو حتمی نتائج سے روک دیا۔