اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اچانک نہیں پھٹے، پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں تقسیم پہلے سے موجود تھی۔
پروگرام ٹونائٹ ود ثمر عباس میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی میں لڑائی کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو لوگوں کو نکلوا رہے ہیں، کچھ نہ ہوا تو 15 دن بعد تحریک انصاف میں مزید لوگ بولیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اسد قیصر، عاطف خان اور شہرام ترکئی کو کے پی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں تھے، علی امین گنڈاپور نے اسد قیصر، عاطف خان اور شہرام ترکئی کے بارے میں ٹکٹ کےحوالے سے ٹھیک بولا، اسد قیصر سازشی نہیں ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے تینوں کو ٹکٹ نہ دینے کے فیصلے کی بیرسٹر گوہر اور میرے سامنے تصدیق کی، علی امین گنڈاپور اگر کارروائی کریں تو پی ٹی آئی کی آدھی سابق کابینہ جیلوں میں ہو، ہو سکتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے 3 سے 4 وزیر برطرف ہوجائیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی باتیں پریس کانفرنس کی حد تک ہیں، بلی کے گلے میں تحریک کی گھنٹی کون باندھے گا، ابھی بہت سی سازشیں پائپ لائن میں ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کچھ نہیں ہو رہا بس سازشیں ہو رہی ہیں، علی امین گنڈاپور کو ابھی تک بانی پی ٹی آئی نے بچایا ہوا ہے۔