پاکستان نیوی آرڈیننس میں ترمیم کابل سینیٹ میں پیش

پاکستان نیوی آرڈیننس میں ترمیم کابل سینیٹ میں پیش

ترمیمی بل کے مطابق صدرمملکت پاکستان نیوی اوراس کے ریزرو کو بڑھا سکیں گے، نیوی کا کنٹرول اور کمانڈ وفاقی حکومت کے پاس ہوگی، نیوی کا انتظام چیف آف نیول سٹاف کو تفویض ہوگا، طیاروں کی تعریف میں ہوائی جہاز،ایئرشپ، گلائیڈرز اور دیگر اڑنے والی مشینیں شامل ہیں۔

بل کے مطابق قافلے میں شامل کسی بحری جہاز کا انچارج قافلے کے کمانڈ افسر کی ہدایت پرعمل کرے گا، نیوی کی متعلقہ اتھارٹی کسی بھی شخص کو ریٹائر یا سبکدوش کرسکتی ہے، متعلقہ اتھارٹی کسی بھی شخص کا استعفیٰ قبول یا مسترد کرسکتی ہے یا ملازمت سے برخاست کرسکتی ہے۔

ترمیمی بل کے مطابق ماتحت پر مجرمانہ طاقت کے استعمال، بدسلوکی پر کسی بھی افسر کو مختصر قید ہوسکتی ہے۔