غزہ میں جنگ بندی معاہدہ یکطرفہ، تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے: خواجہ آصف

Published On 30 November,2025 11:36 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے، کیونکہ اسرائیلی افواج جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہیں اور فلسطینیوں کوماررہی ہے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خواجہ آصف کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے کم از کم 352 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 70,000 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام لانا تھا، لیکن اسرائیل کی کارروائیوں نے اس کی معاہدے پر عمل درآمد کی نیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا نسل کشی کا عمل ختم نہیں ہوا، اور بین الاقوامی برادری، خصوصاً مغربی حکومتوں، کو چاہیے کہ اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی پابندی کے لیے دباؤ جاری رکھیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وہ مسلم ممالک جنہوں نے معاہدے کی حمایت کی تھی، ترکی، مصر اور قطر کو جاری تشدد کے پیشِ نظر اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ترکیہ صدر رجب طیب اردوان پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔