ججز مخالف مہم: ڈی جی این سی سی آئی اے کو کارروائی کی ہدایت

ججز مخالف مہم: ڈی جی این سی سی آئی اے کو کارروائی کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پرویز الٰہی بھدر کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈی جی پی ٹی اے عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کے خلاف مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائیاں کیوں نہیں ہوئیں؟ لگتا ہے کہ این سی سی آئی اے صرف امیر یوٹیوبرز کے خلاف کارروائیاں کرتا ہے، افسران مالی مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔

ڈی جی این سی سی آئی اے نے بتایا کہ ہم نے دو سو لنک اور 79 سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو سرچ کیا، عدلیہ کی توہین میں ملوث 11 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے، این سی سی آئی اے کے پاس 74 افسران تھے جو کنٹریکٹ پر تھے، ان کا کنٹریکٹ پورا ہوچکا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے محکمے میں آئی ٹی ایکسپرٹ ہونے چاہئیں، دوران عدالتی استفسار پر ڈی جی پی ٹی اے نے بتایا کہ متعدد بار سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خط لکھے وہ کہتے ہیں ان کے آفس سنگاپور میں ہیں یہاں ان کا آفس نہیں ہے، اگلے برس گوگل کا آفس پاکستان میں اوپن ہوگا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آفس ادھر آنے میں بہت وقت لگے گا مگر آپ قانون میں ترامیم کروا لیں، ڈی جی پی ٹی اے نے بتایا کہ وٹس ایپ ہیک ہونے کے واقعات کے خلاف واٹس ایپ سے رابطہ کیا، اب انہوں ایک اور ویری فکیشن ایڈ کر دیا ہے۔

عدالت نے ڈی جی این سی سی آئی اے سے استفسار کیا کہ آپ نے یقین دہانی کروائی تھی ہم بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھیں گے مگر عمل نہیں ہوا۔

ڈی جی نے بتایا کہ ہم نے پانچ ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو سائبر پٹرولنگ کریں گی، عدالت نے آئندہ سماعت پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی۔