آزاد کشمیر انتخابات: ترقیاتی اعلانات پر الیکشن کمیشن متحرک

آزاد کشمیر انتخابات: ترقیاتی اعلانات پر الیکشن کمیشن متحرک

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انتخابات کے دوران کسی بھی نئی ترقیاتی سکیم، مالی پیکج یا سرکاری وسائل کے انتخابی استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

‎پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے حالیہ انتخابی جلسوں میں مظفرآباد اور میرپور کے لیے دس، دس گرین الیکٹرک بسوں سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔

ان اعلانات کے بعد مظفرآباد کے لیے 10 الیکٹرک بسوں کی کھیپ پہنچ گئی ہے، تاہم ان بسوں کی آمد کے ساتھ ہی یہ معاملہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کے تناظر میں بھی زیر بحث آ گیا ہے۔

‎الیکشن کمیشن کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ عام انتخابات کے دوران کسی بھی وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے نئی ترقیاتی سکیم، مالی پیکیج یا عوامی مفاد کے کسی نئے منصوبے کا اعلان انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔

ترجمان کے مطابق اگر انتخابات کے دوران وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی طرف سے گاڑیاں، سامان یا دیگر سہولتیں بھیجی جاتی ہیں تو الیکشن کمیشن انہیں ضبط کرنے سمیت ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

‎ترجمان نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی وزراء انتخابی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم انہیں سرکاری گاڑیوں، سرکاری پروٹوکول، حکومتی وسائل یا سرکاری مشینری کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر زور دیا کہ وہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کی مکمل پابندی کریں تاکہ آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیرجانبدار انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔

‎دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا ہے کہ عام انتخابات 2026 کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور پولنگ سٹیشنز، ووٹرز اور انتخابی عملے کی سکیورٹی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

‎میرپور میں عام انتخابات کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی اور سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ عدلیہ، انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ پولنگ اسٹیشنز کی سکیورٹی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ انتخابی عمل سے متعلق افواہوں کا بروقت اور مؤثر جواب بھی دیا جائے۔

‎چیف الیکشن کمشنر نے مرحلہ وار انتخابات پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ایک ڈویژن کے نتائج دوسرے ڈویژن کے ووٹروں کے فیصلوں پر اثرانداز ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام سیاسی شعور رکھتے ہیں اور اپنی رائے آزادانہ طور پر استعمال کریں گے۔

‎اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کمشنر میرپور ڈویژن راجہ طاہر ممتاز خان نے بتایا کہ میرپور ڈویژن کے تینوں اضلاع میں انتخابی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، ڈویژن میں مجموعی طور پر 14 لاکھ 437 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں 7 لاکھ 24 ہزار 811 مرداور 6 لاکھ 75 ہزار 626 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

‎کمشنر کے مطابق ڈویژن میں 2316 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں 1241 انتہائی حساس، 724 حساس اور 351 نارملقرار دیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 288 امیدوار مدِمقابل ہیں، جبکہ حلقہ LA-3 میرپور سٹی میں سب سے زیادہ 34 امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔

‎ کمشنر نے مزید بتایا کہ انتخابی نگرانی کے لیے 13 زونز اور 205 سیکٹرز قائم کیے گئے ہیں جبکہ پولنگ عملے، ٹرانسپورٹ اور دیگر تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ڈی آئی جی پولیس کامران علی نے بتایا کہ پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے میرپور ڈویژن میں پولیس، سول آرمڈ فورسز اور پاک فوج سمیت مجموعی طور پر 18 ہزار 560 اہلکار تعینات کیے جائیں گے، ان میں ضلع میرپور کے لیے 5536، بھمبر کے لیے 4504 اور کوٹلی کے لیے 8520 اہلکار شامل ہوں گے۔

‎انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے لیے تین سطحی سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت پولیس فرسٹ ٹئیر، سول آرمڈ فورسز سیکنڈ ٹئیر جبکہ پاک فوج تھرڈ ٹئیر کے طور پر فرائض انجام دے گی۔

پولیس کامران علی نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے پاک فوج کے 2100 جوان بھی انتخابی ڈیوٹی پر تعینات کیے جائیں گے تاکہ پولنگ کا عمل ہر لحاظ سے محفوظ، منظم اور پرامن بنایا جا سکے۔