ہری پور میں 5 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، 15 روز بعد نعش مل گئی، 3 افراد گرفتار

ہری پور میں 5 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، 15 روز بعد نعش مل گئی، 3 افراد گرفتار

ہری پور میں سولہ روز قبل آیت نور گھر سے کھیلنے کے لیے نکلی اور لاپتہ ہو گئی، بچی مردہ حالت میں پندرہ روز بعد ایک کنویں سے ملی، سی سی ٹی وی فوٹیج سے آیت نور کے اغوا میں پانچ ملزم شناخت کر لیے گئے، تین ملزمان پولیس نے گرفتار کر لیے، دو ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

گرفتار 3 ملزمان نے مجسٹریٹ کے سامنے آیت نور کو زیادتی کے بعد پھینکنے کا اعتراف کیا، ہری پور ڈسٹرکٹ بار نے آج یوم سوگ کا اعلان کر دیا۔

ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور نے بتایا ہے کہ آیت نور کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا تھا، آیت نور کیس میں سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی تھی جس میں سی ٹی ڈی ہزارہ کی ٹیم بھی شامل تھی۔

انہوں نے بتایا کہ آئی جی کے پی اور آر پی او ہزارہ نے اس کیس میں نوٹس لیا،آر پی او ہزارہ نے ہری پور کا دورہ بھی کیا، آئی ٹی کی ٹیم نے 200 سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جن میں 12 کارآمد ثابت ہوئیں، 20 مشکوک نمبرز حاصل کیے گئے جن پر مکمل کام کیا گیا۔

ڈی پی او ہری پورنے کہا کہ تفتیش میں بالکل لاپرواہی نہیں کی گئی، ملزمان کی عمر کم ہونے کی وجہ سے موبائل سم ان کے نام پر نہیں تھی، ملزمان کے لواحقین سے تفتیش کی گئی اور ان سے معلومات حاصل کی گئی، 400 سے زائد میل فی میل پولیس اہلکار دن رات بچی کی تلاش کرتے رہے۔

شفیع اللہ گنڈاپور نے کہا کہ مرکزی ملزم عثمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور جج کے روبرو اقبال جرم کر لیا، ہمارا فوکس تھا کہ بچی کو گھر سے کس نے نکالا، جس بچے نے بچی کو گھر سے نکالا ہم نے اسے ٹریس کیا اور بچے کی نشاندہی پر بچی کو کنویں سے برآمد کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے انتہائی مہارت سےبچی کو کنویں سے نکالا، ڈاکٹروں کے پینل کی موجودگی میں تمام شواہد حاصل کیے گئے، ڈی این اے اور تمام سیمپلز لیے گئے، تفتیش ابھی بھی جاری ہے اور تمام شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔

ڈی پی او ہری پور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں بچوں کی نگرانی کریں، بچی کا والد دیہاڑی دار ہے اور انتہائی قرب میں مبتلا ہے، سوسائٹی سے گزارش ہے کہ اپنی پولیس کو اون کریں اور ان کا ساتھ دیں۔