خلاصہ
- پشاور: (دنیا نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت چار محکموں کے کارکردگی معاہدوں پر دستخط کی تقریب ہوئی، اعلیٰ تعلیم، بلدیات، سیاحت اور سماجی بہبود کے محکموں نے فریم ورکس پر دستخط کئے۔
تقریب میں وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی، مشیر سماجی بہبود لیاقت علی خان، معاون خصوصی سیاحت عادل اقبال، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔
کارکردگی معاہدوں کے تحت محکمہ سماجی بہبود 10 دارالامان اپ گریڈ کرے گا، 3 غیر فعال پناہ گاہیں فعال کی جائیں گی جبکہ 15 مراکز پر تین وقت کا کھانا یقینی بنایا جائے گا۔
سوشل ویلفیئر فریم ورک کے تحت پشاور سینٹر آف ایکسیلنس فار آٹزم کی بہتری، 3 خصوصی تعلیمی اداروں کو اپ گریڈ اور 5 کو آؤٹ سورس کیا جائے گا، صوبے بھر کے 124 صنعتی تربیتی مراکز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
— Yar Muhammad Khan Niazi (@YarMKNiazi) August 25, 2026
سیاحت کے شعبے میں گلیات، کاغان اور کمراٹ کے ماسٹر پلان مکمل کئے جائیں گے جبکہ بڑے سیاحتی مقامات پر روزانہ کچرا اٹھانے کا عمل شروع کیا جائے گا، ٹھنڈیانی اور گنول میں مربوط سیاحتی زونز (آئی ٹی زیڈز) تیزی سے مکمل کئے جائیں گے اور 7 آرام گاہیں فعال کی جائیں گی۔
بلدیات کے شعبے میں روزانہ 7 ہزار ٹن کچرے کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا جائے گا، شہری علاقوں میں 6 ہزار 200 مین ہولز پر ڈھکن نصب کئے جائیں گے۔
کوہاٹ، پشاور، ایبٹ آباد اور مردان میں 4 جدید لینڈ فل سائٹس کی تعمیر شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں 5 کمزور کارکردگی والے کالج آؤٹ سورس جبکہ 2 کالج اپلائیڈ سائنسز میں تبدیل کئے جائیں گے، ایک ہزار سے زائد بی ایس طلبہ کو صنعتی انٹرن شپس فراہم کی جائیں گی۔
5 جامعات میں انکیوبیٹرز فعال کئے جائیں گے جبکہ سال کے آخر تک تحقیق کمرشلائزیشن پائلٹ منصوبہ شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے کہا کہ یہ معاہدے احتساب کے نظام کی مضبوطی کی جانب اہم قدم ہیں، محکمے یہ اہداف وقت پر مکمل کرنے کے پابند ہوں گے۔