تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 21 ہزار 261 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 64 ہزار 564 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹے کےدوران کوروناسےمزید 63 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 135 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 57 ہزار 77 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کورونا کے مزید 2512 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.4 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 3 ہزار 610 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 11 لاکھ 29 ہزار 562 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 87 لاکھ 97 ہزار 433 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 5117 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 20 ہزار 615 ،سندھ میں 4 لاکھ 49 ہزار 349 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 70 ہزار 738،بلوچستان میں 32 ہزار 722 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد ایک لاکھ 3 ہزار 923 ،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 232 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 33 ہزار 682 ہوگئی،این سی اوسی

فیس بک: متنازع مواد کی نگرانی کیلئے ’سپریم کورٹ‘ تشکیل، خود مختار بورڈ قائم

Last Updated On 07 May,2020 11:13 pm

کیلیفورنیا: (ویب ڈیسک) امریکی سوشل میڈیا ٹیکنالوجی کمپنی فیس بک نے متنازع مواد کی نگرانی کیلئے بنائی گئی اپنی ’سپریم کورٹ‘ کے خود مختار بورڈ کا اعلان کر دیا ہے۔

فیس بک کی ’سپریم کورٹ‘ کے ابتدائی ارکان میں نوبل انعام یافتہ خاتون توکل کرمانی، ڈنمارک کی سابق وزیراعظم، سابق امریکی فیڈرل کورٹ کے جج مائیکل مکنول، سابق ایڈیٹر ایلن رسبریجر اور ماہر تعلیم کیٹالینا بوتیرو سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے 20 سیاستدان، ماہر قانون، ماہر تعلیم، ادیب، صحافی و انسانی حقوق کے علمبردار شامل ہیں۔ ڈنمارک کی سابق وزیراعظم تھورننگ دیگر تین ممبران کے ہمراہ فیس بک کی سپریم کورٹ کے پینل کی صدارت کریں گی۔

فیس بک کی جانب سے تشکیل دیا گیا یہ بورڈ عدالت کی طرح کام کرے گا، اس کے فیصلوں کو تسلیم کرنا سب کیلئے لازم ہوگا۔ یہ ’سپریم کورٹ‘ متنازع مواد کی نگرانی کرتے ہوئے آزادانہ فیصلے کرے گی۔ یہ بورڈ بتائے گا کہ کس طرح کا مواد ویب سائٹ پر شائع کیا جا سکتا ہے اور کسے روکا جائے۔

خیال رہے کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے 2018 میں اعلان کیا تھا کہ ویب سائٹ متنازع مواد کی نگرانی کے حوالے سے ایک آزاد بورڈ کا قیام عمل میں لائے گی۔