تازہ ترین
  • بریکنگ :- لاہور:چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیرصدارت اجلاس
  • بریکنگ :- مونس الہٰی،ہاشم ڈوگر،حماد اظہر،فوادچودھری،آئی جی پنجاب کی شرکت
  • بریکنگ :- لاہور: 25 مئی کے واقعات پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ
  • بریکنگ :- 25مئی کےواقعات میں انصاف ہوتا نظر آئے گا،وزیرداخلہ پنجاب

فری لانسنگ: دور جدید کی معیشت میں انقلابی اضافہ

Published On 28 June,2022 09:37 am

لاہور: (سدرہ نورین) اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر انسان کو پر آسائش اور سہولتوں سے بھرپورزندگی گزارنی ہے تو بہت سے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی زندگی آرام و سکون سے گزرے اور اسے زندگی گزارنے کیلئے جن سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ بآسانی میسر ہوں۔کچھ لوگ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں جن کے آباؤ اجداد ان کیلئے بہت سا مال ودولت اور جائیداد چھوڑ کر جاتے ہیں لیکن ہر انسان کی قسمت ایسی نہیں ہوتی۔انہیں اپنے لیے خود محنت کرنا پڑتی ہے۔بہت سے تو اپنی قسمت سے شکوہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیںاور ہمیشہ یہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش ہم بھی کسی رئیس کے گھر پیدا ہوئے ہوتے۔

یہ سب لوگ بھی ان تمام آسائشوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں،کیسے؟یہ اس وقت ممکن ہے جب ایک شخص خود کوشش کرے۔ خواہشات کو حقیقت میں بدلنے کیلئے ایک عام آدمی ڈالر کیسے کما سکتا ہے؟ٹیکنالوجی کے اس دور نے انسان کیلئے پیسے کمانے کے بہت سے ذرائع پیدا کر دیئے ہیں۔اگر آج کسی تعلیم یافتہ شخص سے پوچھا جائے کہ دور حاضر میں پیسے کس طرح کمائے جا سکتے ہیں تو وہ یقینا اس بات پر قائل نظر آئے گا کہ موجودہ دور میں کامیاب ہونا مشکل نہیں بلکہ ’’ٹیکنیکل‘‘ ہے۔ سمارٹ ورکنگ کے ذریعے کم وقت میں زیادہ پیسے کمانا آج سب سے آسان کام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان ان تمام ذرائع کو پہچانے کہ کس طرح وہ ان کو استعمال کرتے ہوئے پیسے کما سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کے بہت سے ذرائع ہیں۔ جنہیں استعمال کر کے ایک عام انسان بھی بہت سے پیسے کما سکتا ہے۔آج کل ہر خاص و عام کے پاس اینڈرائیڈ فون اور انٹرنیٹ ضرورموجود ہے ، جنہیں آپ کمائی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کے طریقوں میں سر فہرست ’’فری لانسنگ‘‘ ہے۔

فری لانسنگ کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا کے سرفہرست پانچ ممالک میں ہوتا ہے اور اس نے فری لانسنگ سے مکمل طور پر 0.5 بلین ڈالر کی قابل قدر رقم حاصل کی ہے۔ آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ نے 2017ء میں آن لائن لیبر انڈیکس میں پاکستان کو فری لانسنگ کیلئے چوتھے مقبول ترین ملک کا درجہ دیا اور انٹرنیٹ کمیونی کیشنز اینڈ ٹیکنالوجی آؤٹ سورسنگ کی تیزی سے ترقی کی وجہ سے اسے مسلسل سرفہرست مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ آئی ٹی سیکٹرمیں پاکستان نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ٹیکنالوجی کی کیٹیگری میں عالمی سطح پر چوتھی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ فری لانسنگ ایک ایسا طریقہ ہے جس سے انسان پاکستان بلکہ اپنے گھر بیٹھ کر بیرون ممالک(امریکہ، فرانس، اٹلی،جرمنی وغیرہ)میں بھی کام کر سکتا ہے۔ اپنی سروسز دے کر ڈالرز اور یوروز کما سکتا ہے۔ ان سروسز میں گرافک ڈیزائننگ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، ورچوئل اسسٹنٹ شامل ہیں۔ان میں سے کوئی بھی قابلیت حاصل کر کے آپ بھی نہ صرف ہنر مند بن سکتے ہیں بلکہ گھر بیٹھے لاکھوں روپے کما سکتے ہیں۔پاکستان کے سافٹ وئیر ہاؤس دنیا بھر میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں اور ان کے بنائے گئے پروگرامز دنیا کے کئی ممالک میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان آنے والے دور میں ایشیاء کا سافٹ وئیر ہب بننے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ فری لانسنگ کسی نعمت سے کم نہیں کورونا کے دوران پوری دنیا میں بے روز گاری کاجن بے قابو تھا اور کوئی بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا ۔ جن لوگوں کی نوکریاں محفوظ رہیں ان کو تنخواہوں میں کٹوتیوں کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے بالکل برعکس فری لانسنگ کرنے والوں کا نہ صرف روز گار محفوظ رہا بلکہ جتنی ترقی فری لانسنگ نے کورونا کے دوران کی اس کی مثال نہیں ملتی۔

ایک سافٹ وئیر ہاؤس میں کام کرنے والے نوجوان نے بتایا کہ کووڈ وبا ء کے دوران اس کی کمپنی نے اسے کئی بونس دئیے کیونکہ کمپنی کی آمدن میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہو رہا تھا۔ ماہرین کے مطابق فری لانسنگ دور جدید کا وہ ہتھیار ہے جس سے ہر نوجوان کو لیس ہونا چاہیے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں ، آپ کے پاس ایسا کوئی ہنر ضرور ہونا چاہئے جس کی مدد سے آپ بیرون ممالک موجود کمپنیوں کو سروس فراہم کر سکیں۔

پاکستان میں ای کامرس نے بہت ترقی کی ہے ، کچھ عرصہ قبل تک لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر قائل تھی کے آن لائن شاپنگ فراڈ کے علاوہ کچھ نہیں لیکن اچھے ورچوئل اسسٹنٹ اور مارکیٹنگ کی وجہ سے صارفین کا اعتماد بحال ہوا ہے اور اب لوگ آن لائن شاپنگ کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اگر آپ کسی آن لائن شاپنگ پورٹل پر موجود کاروبار کیلئے بطور ورچوئل اسسٹنٹ اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں تو یہ ایسا سنہری موقع ہے جس سے آپ گھر بیٹھ کر ڈالرز کی صورت میں لاکھوں روپے کما سکتے ہیں۔

سرچ انجن آپٹیمائزیشن کیلئے بھی آپ اپنی سروسز فراہم کر سکتے ہیں۔بیرون ملک اس کام کیلئے ہزاروں ڈالر چارج کئے جاتے ہیں لیکن یہی کام آپ پاکستان میں معقول رقم لے کر کر سکتے ہیں۔ فری لانسنگ کو اگر درست سمت میں استعمال کیا جائے تو یہ آپ کیلئے فل ٹائم جاب بھی بن سکتی ہے جس سے آپ ایک خوشگوار اور پر آسائش زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس کی ایک خوبصورتی یہ ہے کہ یہ ایک چین ری ایکشن کی طرح کام کرتی ہے ۔ اگر آپ فری لانسنگ میں اچھے ہیں تو آپ مزید کام حاصل کرنے کیلئے اپنی ٹیم میں اضافہ کریں گے جس سے مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

سدرہ نورین فری لانس رائٹر ہیں، ان کے معلوماتی مضامین مختلف ویب سائٹس اور اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔