تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ پنجاب سے ایاز صادق اورخواجہ سلمان رفیق کی ملاقات
  • بریکنگ :- سیاسی صورتحال اورمہنگائی کےخلاف اقدامات پرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- عمران خان کےدورمیں عوام مہنگائی سےبہت پریشان تھے،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- ہم نےآٹاسستاکرکےعوام کی مشکلات کم کیں ،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- 10کلوآٹےکاتھیلا 650 کےبجائے 490 روپے میں مل رہا ہے،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- چینی اورگھی سستاکرنےکیلئےاقدامات کررہے ہیں،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- عوام نے عمران خان کے انتشار مارچ کا دھڑن تختہ کردیا،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- آڈیولیک میں عمران خان این آراو کی بھیک مانگتا رہا،حمزہ شہباز

مذاکرات پر امریکی نیت پر شکوک و شبہات ہیں: امیر افغان طالبان

Last Updated On 08 August,2019 05:40 pm

کابل: (ویب ڈیسک) افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے معاملے پر امریکی نیت پر شکوک و شبہات ہیں۔ ہم مذاکرات میں سنجیدہ جبکہ امریکی بیانات بے یقینی پیدا کر رہے ہیں۔

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عید سے پہلے اپنے ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے قول وفعل سے افغانستان میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے بارے میں شکوک پیدا کر رہا ہے۔ امریکی حکام کی طرف سے متضاد بیانات اور سویلین آبادی پر اندھادھند بمباری سے نیت پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔

ملا ہیبت اللہ کا کہنا تھا کہ امریکا کیساتھ مذاکرات میں ہم پوری نیک نیتی سے مذاکرات کی طرف گامزن ہیں دوسرا فریق اپنے اقدامات اور بیانات سے بے یقینی پیدا کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم 18 سال سے جاری جنگ کو سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے ختم کرنا چاہتے ہیں، دو طرفہ اعتماد اور بھروسہ کے ساتھ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں، منفی چیزوں کی طرف دھیان نہیں دینا چاہیے۔

یاد رہے کہ طالبان اور امریکا دونوں کہتے رہے ہیں کہ وہ قیام امن کی کوششوں کا سلسلہ تیز کرنے کے خواہاں ہیں تاہم قطر میں مذاکراتی عمل کے باوجود افغانستان میں پرتشدد واقعات میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

فریقین کے درمیان مذکرات کا آٹھواں دور دوحہ قطر میں ہوا، جس کے بعد امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد اور طالبان دونوں پرامید نظر آئے کہ مسئلے کے حل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

امریکا کے مطابق طالبان کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے میں یقینی طور پر امریکی فوج کے انخلا کا عمل شامل ہو گا اور افغانستان میں امریکی موجودگی کی شرائط کو بھی شامل کیا جائے گا۔

طالبان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ضمانتیں فراہم کریں گے لیکن تب تک بظاہر ان کی طرف سے حملوں اور کاروائیوں میں کمی آنے کی بجائے تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔