تازہ ترین
  • بریکنگ :- پرامن احتجاج ہرپاکستانی کابنیادی آئینی حق ہے،وکیل پی ٹی آئی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں پی ٹی آئی رہنماؤں کوگرفتارکیاجارہاہے،وکیل
  • بریکنگ :- احتجاج پرسپریم کورٹ کادھرناکیس کافیصلہ موجودہے،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- اسلام آباد:پتہ نہیں پولیس کوکون ہدایات دیتاہے،عدالت
  • بریکنگ :- پولیس نےپارلیمنٹ لاجزسےارکان اسمبلی کوپکڑا،چیف جسٹس ہائیکورٹ
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی بیان حلفی دےسکتی ہےکہ قانون نہیں توڑاجائےگا؟عدالت
  • بریکنگ :- اسلام آباد:عدالت نےسماعت میں کچھ دیرکاوقفہ کردیا
  • بریکنگ :- عدالتی فیصلوں کاجائزہ لےکرعدالت کی معاونت کردیتاہوں،بیرسٹرعلی ظفر
  • بریکنگ :- عدالت نےبیرسٹرعلی ظفرکوعدالتی فیصلوں کاجائزہ لینےکیلئےوقت دےدیا
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی کی درخواست پراسلام آبادہائیکورٹ میں سماعت
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کےوضع کردہ اصولوں کےمطابق احتجاج آئینی حق ہے،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- عدالت محض خدشےکےپیش نظرحکم جاری نہیں کرسکتی،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- اسلام آبادمیں بےلگام احتجاج کی اجازت نہیں دی جاسکتی،عدالت
  • بریکنگ :- اسلام آبادمیں حساس دفاتراوراہم سفارتخانےہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ
  • بریکنگ :- احتجاج کی آڑمیں شرپسندآجائیں توکیسےنمٹیں گے؟چیف جسٹس اطہرمن اللہ
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی احتجاج کیلئےضلعی انتظامیہ کودرخواست دے،عدالت

امریکا کیساتھ مذاکرات معطل ہونے کے بعد افغان طالبان کا وفد روس پہنچ گیا

Last Updated On 14 September,2019 07:21 pm

ماسکو: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان طالبان کیساتھ مذاکرات ختم کیے جانے کے بعد طالبان رہنما صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے روس پہنچ گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قطر میں 9 مذاکراتی ادوار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان نمائندوں کیساتھ کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کرنا تھی اور امن معاہدہ طے پانے والا تھا اس دوران طالبان کے حملوں میں ایک امریکی فوجی مارا گیا، ہلاکت کے بعد ٹرمپ نے طے شدہ ملاقات منسوخ کرتے ہوئے مذاکرات کو بھی  ڈیڈ‘ قرار دے دیا تھا۔

اچانک فیصلے کے بعد طالبان علاقائی قوتوں کیساتھ رابطوں میں تیزی لے آئے ہیں۔ طالبان کے وفد نے روسی حکام سے ملاقات کی اور ساتھ یہ اعلان کیا ہے کہ جلد چین، ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے حکام سے ملیں گے۔

روس کے وزارت خارجہ کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے ماسکو میں طالبان وفد کی میزبانی کی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس کی طرف سے طالبان تحریک اور امریکا کے مابین امن مذاکرات بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ جبکہ طالبان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے قطر میں ایک سینیئر طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ دوروں کا مقصد ان ممالک کی قیادت کو امن مذاکرات اور ٹرمپ کی جانب سے ایسے وقت پر امن عمل ختم کرنے کے حوالے سے آگاہ کرنا ہے جب فریقین امن معاہدے پر دستخط کرنے ہی والے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ رابطے کرنے کا مقصد امریکا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش نہیں ہے بلکہ ان دوروں کا مقصد افغانستان امریکی فوجیوں کو نکلنے پر مجبور کرنے کیلئے علاقائی تعاون کا جائزہ لینا ہے۔