تازہ ترین
  • بریکنگ :- مریم اورنگزیب سمیت ٹاسک فورس کے دیگر ارکان کی اجلاس میں شرکت
  • بریکنگ :- کمیٹی کا سولر انرجی کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ
  • بریکنگ :- سرکاری عمارتوں کوسولرانرجی پرمنتقل کرنے کا فیصلہ، وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- بجلی پرسبسڈی والےعلاقوں میں بھی سولرپلانٹس لگانےکافیصلہ،مریم اورنگزیب
  • بریکنگ :- توانائی کی بچت اورگرین انرجی کوفروغ دینےکیلئےپالیسی بنانےپر بھی غور
  • بریکنگ :- سرکاری عمارتوں کوشمسی توانائی پرمنتقل کرنےکیلئے رپورٹ مرتب کرنےکی ہدایت
  • بریکنگ :- شمسی توانائی پرمنتقلی کیلئےسولرپینلزکوفروغ دینےکی ضرورت ہے،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- سولرپینلزسےاضافی بجلی گرڈاسٹیشنزکوبھی فروخت کی جاسکےگی،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- 4 سے 5 ہزارمیگاواٹ کےمنصوبوں پرکام جلدشروع ہوگا،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت سولرانرجی سےمتعلق ٹاسک فورس کااجلاس

’آذری افواج سرحد کے قریب پہنچ گئیں‘: روس نے آرمینیا کی مدد کی درخواست قبول کرلی

Published On 31 October,2020 06:55 pm

ماسکو: (ویب ڈیسک) روس نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ میں ضرورت پڑنے پر آرمینیاکی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق گزشتہ روز جنیوا میں آذربائیجان اورآرمینیا کے درمیان نگورنو کارا باخ کے تنازع پر جنگ بندی معاہدے میں ناکامی کے بعد آرمینی وزیراعظم نے روس سے رابطہ کیا تھا۔

آرمینیا کے وزیراعظم نے روسی صدرولادیمیر پیوٹن کو خط لکھ کر نگورنو کارا باخ کے معاملے پر سیکیورٹی سے متعلق ہنگامی مشاورت شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنے خط میں آرمینی وزیراعظم کاکہنا تھا کہ آذری افواج کو ترکی کی مدد حاصل ہے اور وہ آرمینیا کی سرحد کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

اس حوالے سے ترجمان روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ روس اور آرمینیا کے درمیان موجود دفاعی معاہدہ نگورنو کاراباخ کے لیے نہیں ہے اور روس صرف اس صورت میں ہی آرمینیا کی مدد کرے گا جب یہ جنگ آرمینیا کی اپنی حدود میں پہنچتی جائے گی۔ ٹھوس بنیادوں پر آرمینیا کی مدد کے لیے بات کی جائے گی۔

روس نے دونوں ممالک پر ایک بار پھر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدہ کریں اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل ڈھونڈیں۔

خیال رہے کہ روس آرمینیا کا فوجی اتحادی ہے اور اس کا وہاں پر ایک فوجی اڈہ بھی قائم ہے جب کہ روس کے آذربائیجان کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔

واضح رہےکہ عالمی سطح پر نگورنو کارا باخ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے آرمینی فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا ہے، دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر گذشتہ ایک ماہ سے جنگ جاری ہے اور اس دوران دونوں جانب کے ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ متعدد کوششوں کے باوجود فریقین میں جنگ بندی نہیں ہوسکی ہے اور عالمی قوتیں امن کے قیام کے لیے کوئی ٹھوس حل نہیں نکال سکی ہیں۔