تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاک آرمی کی چولستان کےدورافتادہ علاقوں میں مفت طبی سہولتیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- منصوبےکوعملی جامہ پہنانے کیلئے پاک آرمی کی خصوصی ٹیمیں تشکیل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ضلعی انتظامیہ کےساتھ طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئےسرگرم ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- 2021 میں چنن پیر،کھتری بنگلہ،دین گڑھ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کاانعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- چاہ ناگراں،چاہ ملکانہ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاجاچکاہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کالاپہاڑ،احمدپورایسٹ، منچن آباد اور چشتیاں میں فری میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- 12 ہزارافراد کوفری طبی سہولیات مہیا کی جا چکی ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- تحصیل اسپتال فورٹ عباس میں فری میڈیکل کیمپ 12سے 17 اکتوبرتک جاری ہے
  • بریکنگ :- 15 اکتوبر 2021کوکورکمانڈر بہاولپورنےآئی کیمپ کا دورہ کیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈربہاولپورنےکیمپوں میں دی گئی سہولتوں کاجائزہ لیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈرنےہدایت کی کہ زیادہ ترمریضوں کوطبی سہولتیں دی جائیں،آئی ایس پی آر

تشدد میں کمی: افغان طالبان کا پلان امریکا کو پیش کرنے کا اعتراف

Published On 22 March,2021 06:58 pm

کابل: (دنیا نیوز) افغانستان میں امن کے لیے افغان طالبان نے تشدد میں کمی کا پلان امریکا کو پیش کرنے کا اعتراف کر لیا۔

افغان میڈیا ‘طلوع نیوز‘ کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ تین ماہ تک تشدد میں مرحلہ وار کمی کا پلان امریکا کے ساتھ شیئر کیا ہے، پلان کے تحت تشدد میں کمی اور شہروں پر بڑے حملوں سے اجتناب کیا جائے گا۔

ترجمان طالبان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ تشدد میں کمی کا پلان دسمبر میں پیش کیا تھا، باقاعدہ کوئی معاہدے طے نہیں پایا۔

افغان میڈیا کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے نام خط میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اس پلان کا ذکر کیا تھا، امریکی وزیر خارجہ نے اس پلان کو تشدد میں کمی کے لیے فائدہ مند قرار دیا تھا۔

دوسری طرف امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ امریکی طویل ترین جنگ کا ذمہ دارانہ خاتمہ دیکھنا چاہتی ہے لیکن نتیجہ خیز سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے ضروری ہے کہ تشدد میں کمی ہو۔

یاد رہے کہ امریکہ کے نئے وزیر دفاع کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اتوار کو یہ لائیڈ آسٹن کا افغانستان کا پہلا دورہ تھا۔

امریکی فوجی افغانستان میں کتنے عرصے تک رہیں گے، ان سوالات کے حوالے سے لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ فوج کی واپسی کی حتمی یا مخصوص تاریخ کا تعین کرنا میرے باس کا اختیار ہے۔افغانستان کے دورے کا مقصد تھا کہ وہ ’سنیں اور سیکھیں‘ اور افغانستان میں امریکی فوج کے مستقبل کے بارے میں ’اپنے شراکتی کردار کو بہتر سمجھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ معاملات کے حوالے سے ایک یا دوسری شکل میں خدشات ہمیشہ موجود رہے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ ایک ذمہ دارانہ اختتام اور جنگ کے مذاکرات کے ذریعے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات پر بہت توانائی صرف کی جا رہی ہے۔