تازہ ترین
  • بریکنگ :- انٹربینک میں ڈالرکی قیمت میں 34 پیسےکمی
  • بریکنگ :- انٹربینک میں ڈالر 200 روپے 60 پیسےمیں فروخت
  • بریکنگ :- انٹربینک میں ڈالرکی قیمت میں 34 پیسےکمی
  • بریکنگ :- انٹربینک میں ڈالر 200 روپے 60 پیسےمیں فروخت

کورونا وائرس : بلجیم کے ہسپتالوں کی صورتحال سنگین، مریض جرمنی منتقل ہونے لگے

Published On 24 April,2021 05:02 pm

برسلز: (دنیا نیوز) دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں خوفناک حد تک ایک مرتبہ پھر اضافہ ہونے لگا، اسی حوالے سے ایک خبر بلجیم سے آئی ہے جہاں پرہسپتالوں کو تیسری لہر سے نمٹنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔برسلز کی درخواست پر جرمنی نے یبلجیم کے کورونا کے مریضوں کو اپنے ہسپتالوں میں جگہ دینا شروع کر دیا۔

بلجیم کی وزارت صحت کے مطابق ملک کے ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت یونٹس یا )آئی سی یو( پر کورونا وائرس سے شدید متاثرہ مریضوں کا بوجھ اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ اب ہسپتالوں کے لیے اس بوجھ کو اُٹھانا نا ممکن ہو گیا ہے، چنانچہ برسلز انتظامیہ نے جرمنی سے درخواست کی ہے کہ وہ بلجیم کے کچھ مریضوں کو اپنے ہسپتالوں میں منتقل کرنے کا بندوبست کرے تاکہیبلجیم کے ہسپتالوں کے نگہداشت یونٹس یا )آئی سی یو( پر سے کچھ بوجھ کم ہو سکے۔

بلجیم کے صحت کے شعبے کے ایک اہلکار مارسل فان ڈیئر آؤیرا نے کہا کہ جرمنی پہلے ہی سے ہمارے کورونا مریضوں کو اپنے ہسپتالوں میں جگہ دینے کے لیے تیار ہے۔ بلجیم کے ہسپتالوں کے سٹاف ممبرز اپنی آخری حد تک محنت اور وقت صرف کرتے کرتے اب تھک چُکے ہیں تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے کورونا مریضوں کو جرمنی منتقل کیا جا سکتا ہے۔

جرمنی کی طرف سے اپنے ہمسائے ملک بلجیم کی کورونا وبا کے دور میں مدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے گزشتہ نومبر میں بھی جب تمام یورپی ممالک کورونا وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے، تب بھی جرمنی نے بلجیم سے کورونا مریضوں کو اپنے ہاں منتقل ہونے کی اجازت اور ان کے علاج کی سہولیات فراہم کی تھیں۔ اب ایک بار پھر بلجیم کو کورونا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب جن مسائل کا سامنا ہو رہا ہے اُن کے پیش نظر رواں ہفتے وہاں سے پھر کورونا مریضوں کو جرمن شہر آخن منتقل کیا گیا، جو یبلجیم اور جرمنی کی سرحد پر قائم ہے۔

مذکورہ صورتحال کے باوجودآنے والے ہفتوں میں بلجیم میں پابندیوں میں نرمی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ جرمن میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بلجیم میں وبائی مرض کی وجہ سے صنعت و معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا کافی حد تک ازالہ ہو رہا ہے اور یہ یورپی ملک اب معاشی بحران سے باہر آ رہا ہے۔

دریں اثناء بلجیم کے وزیر اعظم الیکزانڈر ڈے کروو نے خبر کی تصدیق کر دی کہ 8 مئی سے یبلجیم میں ریستوران اور کیفے کُھل جائیں گے اور دکانوں کے باہر کھلے ٹیرسز میں چار افراد ایک میز پر بیٹھ کر کھا اور پی سکیں گے۔