تازہ ترین
  • بریکنگ :- تحریک انصاف کا 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان
  • بریکنگ :- 25 مئی کو 3 بجےسری نگرہائی وے پرملوں گا،عمران خان
  • بریکنگ :- ہرمکتبہ فکرکےلوگ لانگ مارچ میں شرکت کریں،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلیوں کی تحلیل اورشفاف الیکشن کی تاریخ چاہیے،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلی تحلیل اورالیکشن کی تاریخ ملنےتک اسلام آباد رہیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- بیوروکریسی نےغیرقانونی کارروائی کی توایکشن لیں گے ،عمران خان
  • بریکنگ :- فوج کوکہتاہوں آپ نیوٹرل ہیں،نیوٹرل ہی رہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم نےجیل سےنہیں ڈرنا،جان کی قربانی دینی ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- باربارکہا جاتاہے جان کو خطرہ ہے،کوئی خطرہ نہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم جان کی قربانی دینے کیلئے تیارہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- غلام بننے سے بہتر موت قبول ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم چوروں کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- خوف ہےیہ لوگ پٹرول ،ڈیزل ،انٹرنیٹ بندکردیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- انٹرنیٹ،پٹرول ،ٹرانسپورٹ بندہو گی،پہلےسےتیاری رکھیں،عمران خان

صدر اشرف غنی پر مستعفی ہونے کیلئے دباؤ بڑھ رہا ہے: وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ

Published On 11 August,2021 12:15 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ طالبان نے افغانستان میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کی ہیں، جو کابل حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہیں، صدر اشرف پر مشترکہ محاذ بنانے یا مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ اخبار نے لکھا حالیہ عرصے میں طالبان نے افغانستان میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کی ہیں، جنگجو گروپ نے اسٹریٹیجک برتری حاصل کر لی ہے، کئی اہم صوبائی دارالحکومتوں پر اس کا قبضہ ہو چکا ہے، کئی اہم وارلارڈز حکومتی فورسز کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، شمال کے اہم کمانڈر نے صدر اشرف غنی سے اتحاد ختم کرلیا۔ یہ ساری صورت حال کابل حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے صدر اشرف غنی پر مشترکہ محاذ بنانے یا مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، میدان جنگ میں ہونے والے نقصانات صدر اشرف غنی کے لیے انتہائی پریشانی کا باعث ہیں، صدر اشرف غنی مشیروں کی ایک مخصوص تعداد تک محدود ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے ایک سینئر حکومتی رکن نے خبردار کیا ہے کہ اگر تمام سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع نا کیا گیا تو طالبان چند ہفتوں میں کابل پر بھی قابض ہوسکتے ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ کابل حکومت نے طالبان مخالف سابق کمانڈروں پر مبنی ملیشیا بھی بنائی ہیں لیکن بہت سے اہم مقامات پر ان کمانڈروں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے، مغربی شہر ہرات اور شمالی شہر مزار شریف میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان گھمسان کا رن جاری ہے، لڑائی کی وجہ سے ہزاروں افراد بے گھر ہو کر پارکوں اور دوسری کھلی جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔