آسام: (دنیا نیوز) بھارت میں بلڈوزر جسٹس کے نام پر انصاف کو روندا جانے لگا۔
تجاوزات کے خلاف کارروائی کی آڑ میں مسلمانوں کے گھر گرانے کا سلسلہ جاری رہا، آسام میں 667 سے زائد مسلمانوں کے گھر گرا دیئے گئے، گجرات میں مسلمانوں کے 7 ہزار گھر تجاوزات کے نام پر مسمار کر دیئے گئے، اتر پردیش میں 4 مقدس مزارات کو جنگلاتی علاقے قرار دے کر منہدم کر دیا گیا۔
اورنگ آباد میں شہریوں نے بلڈوزر شاہی کے خلاف احتجاج کیا، معاوضے اور رہائش کا مطالبہ کیا، تجزیہ کاروں نے بھی مودی سرکار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلڈوزر کارروائیاں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا ہتھیار بن چکی ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے گھر گرانے کو انسانی حقوق اور قانون کے خلاف قرار دیا تھا، مودی کی ہندوتوا حکومت نے عدالتی حکم ماننے سے بھی انکار کر دیا۔