کراکس: (دنیا نیوز) وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی صدر ٹرمپ کو مذاکرات کی پیشکش کردی۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ بات چیت اور تعاون کے لئے تیار ہے، تاہم انہوں نے حالیہ مبینہ امریکی حملے سے متعلق سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا کہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وینزویلا کو گزشتہ چند ہفتوں سے امریکی فوجی دباؤ کا سامنا ہے، ریاستی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر مادورو نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ، تیل اور ہجرت جیسے معاملات پر واشنگٹن کے ساتھ بات چیت ہو سکتی ہے۔
صدر مادورو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا نے وینزویلا میں منشیات بردار کشتیوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک ڈاکنگ سہولت کو نشانہ بنایا ہے۔
اس حوالے سے سوال پر مادورو نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ ہو سکتا ہے جس پر ہم چند دن بعد بات کریں۔اگر تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ کارروائی لاطینی امریکا سے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف امریکی مہم کے دوران پہلا زمینی حملہ تصور کی جائے گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکا نے وینزویلا میں مبینہ منشیات بردار کشتیوں کے لئے استعمال ہونے والی ایک ساحلی ڈاک کو تباہ کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کارروائی فوج نے انجام دی یا سی آئی اے نے اور نہ ہی حملے کے مقام کی تفصیل بتائی، فلوریڈا میں واقع اپنے مارا لاگو ریزورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاک کے علاقے میں ایک بڑا دھماکہ ہوا جہاں منشیات سے بھری کشتیوں کو تیار کیا جاتا تھا۔



