جنیوا: (ویب ڈیسک) روس نے یوکرینی ڈرون حملے میں شہریوں کی اموات پر مغرب کی خاموشی کی شدید مذمت کی ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے لئے روس کے سفیر گینیڈی گیٹیلوف نے ایک بیان میں کہا کہ ہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور اس کے گروہ کی جانب سے بربریت کے اس اشتعال انگیز عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں جو طویل عرصے سے خونخوار عفریت میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اس حکومت کا بنیادی ہدف ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنا، یوکرین کی مسلح افواج کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور تنازعے کے پرامن حل کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
روسی سفیر نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک اور متعلقہ ادارے بلا تاخیر اس حملے کی عوامی سطح پر مذمت کریں،انہوں نے متنبہ کیا کہ اس واقعے پر خاموش رہنا یوکرین کے خونی جرائم میں کھلم کھلا ملوث ہونے کے مترادف ہوگا۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا ز خارووا نے مغرب پر الزام لگایا کہ اس نے برسوں سے کیف کی دہشت گرد کارروائیوں پر سٹریٹجک خاموشی اختیار اور آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو یوکرینی ڈرون حملے میں مرنے والوں کی جلی ہوئی لاشوں کو نظر انداز کر رہے ہیں ان کا ضمیر مردہ ہو چکا ہے، کھیرسون کے علاقے کے گورنر ولادیمیر سالڈو نے اس حملے کو 2014 کے اوڈیسا کے قتل عام سے تشبیہ دی جہاں درجنوں روس نواز کارکن آگ میں مارے گئے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یوکرینی ڈرون حملے کا نشانہ بننے والے لوگ نئے سال کا جشن منا رہے عام شہری تھے جن میں بچے بھی شامل تھے اور وہاں کوئی فوجی ہدف موجود نہیں تھا۔



