افغانستان میں عدالتوں پر بھی طالبان رجیم کی اجارہ داری، عوام کا جینا دوبھر

Published On 08 January,2026 09:28 am

کابل: (دنیا نیوز) افغان طالبان رجیم میں انصاف دفن، انسانی حقوق کی آزادیوں پر قدغنیں جاری ہیں، سخت گیر اور انتہا پسند پالیسیوں نے عوام کا جینا دو بھر کردیا۔

افغان جریدے آمو ٹی وی نے ایک بار پھر افغان طالبان کی انتہا پسند حکومت کےسیاہ چہرہ کا پردہ فاش کردیا، افغان طالبان رجیم نے حراست سے متعلق نیا جابرانہ حکم نامہ جاری کردیا، افغان طالبان کے نئے فرمان کے تحت مشتبہ افراد کی حراست 72 گھنٹوں سے بڑھا کر 10 دن کر دی گئی۔

نئے قانون کے تحت قیدی افغان طالبان عدالت کے حکم کے بغیر رہائی کے حق سے محروم ہو گئے، طالبان رجیم نے حراستی اختیارات مکمل طور پرافغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سپرد کر دیے، رہائی کا اختیار صرف افغان طالبان کی عدالتوں تک محدود ہو گیا۔

آمو ٹی وی کے مطابق افغان طالبان رجیم کے جاری کردہ نئے حکم نامے کے بعد افغان شہری طویل حراست اور بلاجواز گرفتاریوں کے شدید خطرات سے دوچار ہوچکے ہیں۔

قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ افغان عدالتی فیصلے سے قبل رہائی پر پابندی بے گناہوں کو مہینوں قید رکھ سکتی ہے، نیا فرمان منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کو کھلے عام روندتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ 2021 سے اب تک افغان طالبان رجیم کی جانب سےکی جانے والی متعدد گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے، طالبان رجیم کی انتہا پسند پالیسیاں افغانستان کو کھلی جیل میں تبدیل کر رہی ہیں، افغان طالبان رجیم کے فیصلے انسانی حقوق کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہے ہیں۔