خلاصہ
- ماسکو: (شاہد گھمن سے) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ عالمی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے اور اس وقت انسانیت کو ضرورت ہے کہ ممالک کے درمیان زیادہ تعاون ہو۔
ماسکو میں نئے سفیروں کی اسناد پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر پوتن نے روس کے اُس مؤقف کو بھی دہرایا کہ عالمی سلامتی کا ڈھانچہ نئی بنیادوں پر استوار ہونا چاہئے اور اس حوالے سے روس کی پیش کردہ تجاویز پر دوبارہ سنجیدہ بات چیت ہونی چاہئے۔
پوتن نے کہا کہ دنیا میں طاقت کے زور پر یکطرفہ اقدامات بڑھ رہے ہیں جبکہ سفارت کاری، مکالمہ اور سمجھوتہ پس منظر میں جا رہے ہیں، بعض ممالک دوسروں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں کیسے جینا ہے، کون سے فیصلے کرنے ہیں اور کس سمت جانا ہے۔
روس کے صدر نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر زیادہ مضبوط مطالبے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا زیادہ منصفانہ اور کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ سکے، روس ایک کثیر قطبی دنیا کے نظریے سے مخلص ہے اور اپنی خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن اور تعمیری سوچ کے ساتھ وضع کرتا ہے، جس میں روس کے قومی مفادات اور عالمی رجحانات دونوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
پوتن نے واضح کیا کہ روس تمام ممالک کے ساتھ کھلے اور باہمی فائدے پر مبنی تعلقات چاہتا ہے اور سیاست، معیشت اور انسانی شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے تیار ہے، انہوں نے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کی اہمیت آج پہلے سے زیادہ ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ سلامتی کسی ایک ملک کے لیے دوسرے کی قیمت پر قائم نہیں ہو سکتی، انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ یہ اصول بین الاقوامی معاہدوں میں واضح طور پر درج ہے اور اس سے انحراف ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے، روس نے یورپی اور عالمی سلامتی کے نئے ڈھانچے کے حوالے سے کئی تجاویز پیش کی تھیں اور اب وقت ہے کہ ان پر دوبارہ سے بامقصد گفت و شنید ہو تاکہ یوکرین تنازع کے سیاسی حل کی بنیاد رکھی جا سکے۔
صدر پوتن کے مطابق یوکرین کا بحران روس کے جائز سکیورٹی خدشات کو مسلسل نظرانداز کرنے اور نیٹو کے روسی سرحدوں تک پھیلاؤ کا نتیجہ ہے، روس دیرپا امن چاہتا ہے مگر ہر جگہ، خصوصاً کیف اور اس کے حامی دارالحکومتوں میں ابھی ایسی آمادگی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن جلد از جلد قائم ہونا چاہئے تاہم روس اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ثابت قدم رہے گا، یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کی موجودہ حالت تسلی بخش نہیں، تاہم روس باہمی فائدے پر مبنی تعاون کے لیے ہر ملک کے ساتھ تیار ہے۔
انہوں نے کیوبا کے ساتھ روسی یکجہتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا اپنی خودمختاری کے لیے ثابت قدم ہے اور روس ہمیشہ اس کا ساتھ دے گا۔ افغانستان کے ساتھ تعاون بڑھنے اور جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی امید کا بھی اظہار کیا گیا۔