خلاصہ
- دبئی: (سید مدثر خوشنود) رمضان المبارک 2026 کے آغاز کے ساتھ دنیا بھر میں مسلمانوں کے روزے رکھنے کے اوقات مختلف ہوں گے، جہاں ہر ملک کے جغرافیائی محلِ وقوع کے مطابق روزے کی مدت مختلف ہوگی۔
افطار اور سحری کے درمیان کا وقت سورج کا طلوع و غروب طے کرتا ہے، جس کے باعث کچھ علاقوں میں روزہ دیگر مقامات کی نسبت طویل یا مختصر ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں رمضان کے دوران روزے کی مدت دیگر خطوں کے مقابلے معتدل رہنے کا امکان ہے جبکہ شمالی عرضِ بلد والے ممالک جیسے شمالی یورپ میں روزے کی مدت طویل تر ہو گی۔
مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے کئی حصوں میں عمومی روزوں کے اوقات یو اے ای کے قریب ہوں گے، مگر قطبی علاقوں میں روزہ رکھنے کے اوقات زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔
.jpg)
ماہرینِ فلکیات کے مطابق رمضان کے دوران روزے کی مدت کا تعین سورج کے طلوع و غروب وقت کے حساب سے کیا جاتا ہے، جس کے لیے ہر ملک میں آفیشل سماجی اور مذہبی ادارے اپنے اپنے اوقات نامے جاری کرتے ہیں۔
کچھ ممالک میں روزوں کے اوقات 15 سے 18 گھنٹے تک پہنچ سکتے ہیں، جو مقامی موسم، دن کی لمبائی اور موسمِ سرما یا گرمی کے لحاظ سے تبدیل ہوتے ہیں۔
دنیا بھر میں مسلمان روزہ رکھتے ہوئے افطار اور سحری کے اہتمام کے لیے مقامی اوقات کو مدنظر رکھتے ہیں جبکہ یو اے ای جیسے معتدل خطوں میں روزے کے دوران معتدل درجہ حرارت اور دن کی لمبائی اس عبادت کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
رمضان 2026 کے دوران عالمی سطح پر روزے کے مختلف اوقات مسلمانوں کے روزمرہ معمولات اور عبادات میں متنوع تجربات فراہم کریں گے۔