خلاصہ
- کولمبو: (دنیا نیوز) امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ بحرہند تک پہنچ گئی، ایرانی جنگی جہاز کو تباہ کر دیا۔
بھارت سے جنگی مشقیں مکمل کرکے آنیوالے ایرانی بحریہ کے جنگی جہاز پر امریکہ نے حملہ کیا، برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق جہاز کو امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا۔
سری لنکن وزیر خارجہ نے بتایا کہ جہاز پر 180 افراد سوار تھے، 32 زخمی سیلرز کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، سری لنکن حکام نے بتایا کہ حملے میں جاں بحق 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔
ایرانی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا: امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایرانی بحری جہاز پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بحر ہند میں امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنا کر سمندر میں ڈبو دیا، جو بین الاقوامی پانیوں میں خود کو محفوظ سمجھ رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جہاز کو تار پیڈو کے ذریعے غرق کر دیا گیا، ایک خاموش موت دی گئی، دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار کسی دشمن جہاز کو تارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی بحری جہاز پر حملہ، مودی تنقید کی زد میں
حملے کے بعد بھارت میں نریندر مودی پر تنقید کی جا رہی ہے، کانگریس رہنما پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ ایرانی بحری جہاز کو بھارت نے مدعو کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا اپنے خطے میں اب کوئی اثر و رسوخ باقی نہیں رہا، کیا یہ جگہ بھی خاموشی سے واشنگٹن اور تل ابیب کے حوالے کر دی گئی ہے؟۔
بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق واقعہ کے بعد نئی دہلی میں حکومت کی خارجہ پالیسی اور اثر و رسوخ پر سوالات اٹھ گئے۔
انہوں نے حکومت سے پوچھا ہے کہ بھارت کا اس تنازع میں کیا کردار ہے ؟ بھارتی سرزمین یا وسائل کا استعمال امریکی کارروائیوں میں ہو تو بھارت بھی جنگ میں شریک نظر آ سکتا ہے، جس کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔
حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا
حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86 ویں بیڑے کا حصہ تھا، یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز ہے۔
نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس اس بحری جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے جب کہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔
یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔