خلاصہ
- تہران: (دنیا نیوز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عربی زبان میں خلیجی اور ہمسایہ ممالک کے سربراہان کے نام ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے سفارت کاری کے ذریعے جنگ سے بچنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم امریکی اور صہیونی فوجی جارحیت کے باعث ایران کو اپنے دفاع کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔
ایرانی صدر کے مطابق تہران خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام صرف علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
ایرانی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل کشیدہ ہو رہی ہے اور ایران اور مغربی اتحادیوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) March 4, 2026
مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے عربی زبان میں براہِ راست پیغام جاری کرنا خلیجی ریاستوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے تاکہ ممکنہ علاقائی تصادم کو محدود رکھا جا سکے، حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں ایران نے خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کا ہدف وہ تنصیبات تھیں جہاں سے ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا معاونت کی جا رہی تھی، مختلف خلیجی ریاستوں میں قائم امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے گئے۔