خلاصہ
- تہران: (دنیا نیوز) ایران کے سپریم لیڈر شہید علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان نے نئے رہنما کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کی جس میں مجتبیٰ خامنہ ای کو اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی، مجتبی خامنہ ای ایران کے تیسرے رہبر کو طور پر منتخب ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مجتبیٰ خامنہ ای کا بطور سپریم لیڈر انتخاب، ایران کے مختلف شہروں میں جشن شروع
نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے اعلیٰ ترین سیاسی اور مذہبی منصب کے نئے رہنما ہوں گے اور ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسیز پر ان کا اثر نمایاں ہوگا، سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر کے منصب پر مجتبیٰ خامنہ ای کی تعیناتی کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے۔
ایران کی مجلس خبرگان نے قوم سے اتحاد برقرار رکھنے اور ایرانی عوام سے نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا عہد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں ایک با اثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں اور ان کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ بھی گہرے تعلقات بتائے جاتے ہیں، انہوں نے جانشینی کے معاملے پر کبھی کھل کر بات نہیں کی۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ملک کیلئے عزت و طاقت کے نئے دور کا آغاز ہے: ایرانی صدر
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مجتبی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تقرری ملک کیلئے عزت اور طاقت کے نئے دور کا آغاز ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اہم فیصلہ اسلامی قوم کے اتحاد کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، ایسا اتحاد جو مضبوط دیوار کی طرح ایران کو دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں مزید مضبوط بناتا ہے۔
حملوں کے باوجود نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیا، علی لاریجانی
ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے کہا ہے کہ مجلس خبرگان نے خطرات اور حملوں کے باوجود نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیا۔
علی لاریجانی نے کہا کہ موجودہ حساس حالات میں نیا لیڈر ملک کی رہنمائی کرسکتا ہے، ایرانی عوام کو نئے سپریم لیڈر کی قیادت میں متحد رہنا چاہیے۔
پاسداران انقلاب کا نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد
ایران کی مسلح افواج کی قیادت نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد کر لیا، اور کہا کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان پر عمل کرنے کیلئے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر کے حوالے سے ہم سے منظوری لینی ہوگی، اگر اسے ہم سے منظوری نہیں ملتی تو وہ زیادہ دیر نہیں رہے گا، جبکہ اسرائیل نے بھی خبردار کیا تھا کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔