خلاصہ
- نیویارک: (دنیا نیوز) اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی و چینی مندوبین نے کہا ہے کہ کسی ملک کی شہری آبادی پر حملہ کرنا ناقابل قبول ہے۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی مندوب نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ صورتحال پر افسوس ہے، ایران پر حملے فوری بند کیے جائیں۔
روسی مندوب نے کہا کہ عرب، خلیجی ریاستوں میں شہری آبادی پر حملے ناقابل قبول ہیں، روسی صدر ایران اور اطراف میں قتل عام روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران بار بار کہتا رہا کہ امریکا اس کیخلاف عرب ممالک کے اڈے استعمال نہ کرے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال تب بگڑی جب امریکا و اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔
روسی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ کوئی یہ قرارداد پڑھے گا تو لگے گا کہ ایران نے بلاوجہ حملہ کیا، امریکا و اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحیت کی جو حملوں کی بنیادی وجہ ہے۔
سلامتی کونسل سے خطاب میں چینی مندوب نے کہا کہ تنازعات کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، طاقت کا استعمال ہمیشہ نفرت کو تقویت دیتا ہے۔
چینی مندوب نے مشرق وسطیٰ میں سویلین آبادی پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔
خیال رہے کہ امریکا نے سلامتی کونسل میں روس کی جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کر دی، قرارداد کے حق میں 4 اور مخالفت میں 2 ووٹ ڈالے گئے جبکہ 9 ارکان غیرحاضر رہے۔
دوسری جانب سلامتی کونسل میں ایران کی پڑوسی ممالک پر حملوں کیخلاف قرارداد منظور کرلی گئی جس میں ایران سے خلیجی ریاستوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا گیا، خلیجی ممالک کی جانب سے تیار مسودہ کے حق میں 13 ووٹ آئے، اس قرارداد پر چین اور روس غیر حاضر رہے۔
پاکستان نے خلیجی ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف پیش قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، قرارداد میں کہا گیا کہ ایران کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور عالمی امن اور سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔