تازہ ترین
  • بریکنگ :- الیکٹرانک ووٹنگ مشین کےاستعمال کےحوالےسےاہم پیشرفت
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کےخط کےبعدحکومت کاالیکشن کمیشن سےرابطہ
  • بریکنگ :- چیف الیکشن کمشنرکی ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سےملاقات،ذرائع
  • بریکنگ :- ملاقات میں سیکرٹری الیکشن کمیشن بھی موجودتھے،ذرائع
  • بریکنگ :- الیکٹرانک ووٹنگ مشین اسٹوررومزکےحوالےسےبات چیت،ذرائع
  • بریکنگ :- ای وی ایم اسٹوررومزکیلئےمختلف مقامات کےحوالےسےگفتگوکی گئی
  • بریکنگ :- ایک ارب 20 کروڑکی لاگت سےفیلڈدفاترکی تعمیرپربات چیت،ذرائع
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کی ڈیٹابیس اسٹوریج سےمتعلق معاملات پربات چیت،ذرائع
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کاپروجیکٹ مینجمنٹ کیلئے 20افرادبھرتی کرنےکافیصلہ،ذرائع
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کی ای وی ایم اسٹوریج کیلئےجگہ دینےکی منظوری،ذرائع
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کی ڈپارٹمنٹل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نےمنظوری دی،ذرائع
  • بریکنگ :- ای وی ایم اسٹوریج کیلئے 2کروڑ 23لاکھ روپےکی منظوری دےدی،ذرائع
  • بریکنگ :- عمارت کیلئےپلاننگ کمیشن نےرقم کی منظوری نہیں دی،ذرائع
  • بریکنگ :- پلاننگ کمیشن کی جنوری،فروری میں اسٹوریج منصوبےکی منظوری دلانے کی یقین دہانی
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کےمنصوبےکی این ای سی میں حمایت کریں گے،پلاننگ کمیشن
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کو 3سے 4لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کواسٹورکرناہوگا،ذرائع
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کےپنجاب میں فیلڈدفاترکیلئےفنڈزکی منظوری نہ ہوسکی،ذرائع

سی پیک سے متعلق جعلی خبریں پھیلانے والوں کو اسد عمر کا کرارا جواب

Published On 27 September,2021 07:50 pm

لاہور: (ویب ڈیسک)پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق پاکستان سمیت دنیا بھر میں جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، اسی حوالے سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے جعلی خبریں پھیلانے والوں کو کرارا جواب دیدیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ چینی سفیر نونگ رونگ نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور چند روز قبل ہونے والی 10 ویں جوائنٹ کارپوریشن کمیٹی (جے سی سی) سے متعلق ایک بہترین اور اور تفصیلی انٹرویو دیا۔

اپنے ٹویٹر پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے لکھا کہ جو لوگ سی پیک سے متعلق حقائق جاننا چاہتے ہیں وہ اس آرٹیکل کو ضرور پڑھیں، تاکہ اقتصادی راہداری سے متعلق پھیلنے والی منفی اور جعلی خبریں کا قلع قمع کیا جائے۔