تازہ ترین
  • بریکنگ :- آمدن سےزائداثاثہ جات ریفرنس
  • بریکنگ :- سندھ ہائیکورٹ نےخورشیدشاہ کی درخواست ضمانت مستردکردی
  • بریکنگ :- سندھ ہائیکورٹ نےمقدمےمیں تاخیراورہارڈشپ وجوہات کومستردکردیا
  • بریکنگ :- خورشیدشاہ جیل کےبجائےاسپتال میں معمول کی زندگی گزاررہےہیں
  • بریکنگ :- سندھ ہائیکورٹ کااحتساب عدالت کواثاثہ جات ریفرنس کافیصلہ کرنےکاحکم
  • بریکنگ :- خورشیدشاہ کیخلاف آمدن سےزائداثاثوں کاریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے
  • بریکنگ :- نیب نےخورشیدشاہ کیخلاف آمدن سےزائداثاثوں کاریفرنس دائرکیاتھا

عام کاسمیٹکس میں صحت کیلئے خطرناک اجزا کا انکشاف

Published On 18 June,2021 08:57 am

انڈیانا:(روزنامہ د نیا) میک اپ کا سامان قریباً ہرخاتون کے ساتھ رہتا ہے ، لیکن یہی لِپ اسٹک، مسکارا اور فاؤنڈیشن مضر کیمیکل سے بھرپور ہوتے ہیںاور کئی امراض کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف نوٹرڈیم کے سائنسدانوں نے کینیڈا اور امریکا میں عام استعمال ہونے والی میک اپ کی 200 مصنوعات یعنی لپ اسٹک، فاؤنڈیشن، مسکارا، آنکھوں اور بھنوؤں کے سنگھار کا جائزہ لیا۔ ان میں‘ پراینڈ پولی فلوروالکائل سبسٹینسس’ کی غیرمعمولی مقدار موجود ہوتی ہے ۔ یہ ایک زہریلا کیمیکل ہے جو کئی امراض کی وجہ بن سکتا ہے ۔

واضح رہے کہ میک اپ میں فلورین اور پی ایف اے ایس کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو گردے کے کینسر، بلڈ پریشر، تھائرائیڈ امراض اور کم وزنی پیدائش اور بچوں میں امنیاتی زہر کی وجہ بن سکتی ہے اور بن رہی ہوگی۔ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔