تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 17 ہزار 436،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 489 کیسز
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 7586 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 13لاکھ 67 ہزار 605 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 70 ہزار 263 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 20 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 97 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 647 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 12 لاکھ 68 ہزار 245 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 58 ہزار 334 کوروناٹیسٹ کیےگئے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 2 کروڑ 45 لاکھ 32 ہزار 952 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 1083 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 62 ہزار 323،سندھ میں 5 لاکھ 23 ہزار 774 کیسز
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 84 ہزار 455،بلوچستان میں 33 ہزار 910 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 35 ہزار 218 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 13 فیصدرہی،این سی اوسی

کوئٹہ: شہری ویکسین لگوانے کے 3 ماہ بعد بھی ویکسینیشن کارڈ کے حصول میں ناکام

Published On 05 August,2021 01:54 pm

کوئٹہ: (دنیا نیوز) کوئٹہ میں ویکسین لگوانے والوں کے لئے مشکلات ہی مشکلات ہیں، ویکسی نیشن کروانے کے باوجود نادرا میں تین تین ماہ سے اندراج نہیں ہو پایا جس کے سبب ویکسی نیشن کارڈ کا حصول بھی ممکن نہیں رہا۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے 94 ویکسنیشن سینٹر قیام کیے گئے ہیں۔ کوئٹہ کے مختلف مقامات پر 34 ویکسینیشن سینٹرز میں شہریوں کو ویکسین لگوائی جارہی ہے جن میں بڑی تعداد سرکاری ملازمین کی ہے۔

کوئٹہ کے سرکاری سول ہسپتال میں ویکسینیشن کروانے کے لئے شہریوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں تاہم عملے کی کمی کے باعث لوگوں کو کئی مشکلات درپیش ہیں جبکہ جن شہریوں نے ویکسی نیشن کروائی ہے ان کا اندراج بھی نہیں ہوپایا ہے جس کی وجہ سے انھیں نادرا سے ویکسینیشن کارڈ کے حصول میں پریشانی کا سامنا ہے۔

جہاں لوگ اس وباء سے خود کو محفوظ کر رہے ہیں وہیں ویکسینیشن سینٹروں میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا شہری بھول ہی گئے ہیں، نہ ہی ماسک ہیں نہ ہی سماجی فاصلہ، فکر ہے تو صرف اتنی کے ان کا اندراج ہو جائے تاکہ حکومتی پابندیوں کے بعد انھیں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔