ٹیچرز ٹریننگ پروگرام بند، 4515 ملازمین فارغ

ٹیچرز ٹریننگ پروگرام بند، 4515 ملازمین فارغ

لاہور: (روزنامہ دنیا) محکمہ سکولز پنجاب نے 10 سال سے دیہی علاقوں میں ٹریننگ دینے والے ڈسٹرکٹ ٹیچرز ایجوکیٹرز سمیت 4515 افراد کو فارغ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کا مقصد سی پی ڈی پروگرام ختم کر کے اکیڈیمک ڈویلپمنٹ یونٹ کا قیام عمل میں لانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ٹیچرز ایجوکیٹرز (ڈی ٹی ای) گزشتہ 10 سال سے بطور ٹرینر کام کر رہے تھے۔ 2007ء میں ڈائریکٹوریٹ آف سٹاف ڈویلپمنٹ (ڈی ایس ڈی) نے سی پی ڈی پروگرام کا آغاز کیا جس کا مقصد پنجاب کے دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں انگریزی، ریاضی اور دیگر مضامین میں کمزور طلبہ کا ٹیسٹ لیکر ان کے اساتذہ کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ بچوں کو اچھے طریقے سے ان مضامین میں پڑھانے کی دسترس حاصل کر سکیں مگر 10 سال تجربہ رکھنے والے سکیل 17 کے 140 ٹیچرز، سکیل 16 کے 840 ڈسٹرکٹ ٹیچر ایجوکیٹرز، سکیل 14 کے 3360 ٹیچرز، 35 ڈیٹا آپریٹر، 35 جونیئر کلرک، 70 ڈرائیور اور 35 نائب قاصد سمیت 4515 افراد کو فارغ کر دیا گیا۔ ان افراد کو محکمہ سکولز ایجوکیشن تنخواہ کے علاوہ 9 ہزار روپے اضافی الاؤنس دے رہا تھا۔

ان افراد کو فارغ کر کے ایک نیا تجربہ کیا جا رہا ہے اور نئے نام سے اکیڈیمک ڈویلپمنٹ یونٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس میں پرانے ٹرینرز کو فارغ کر کے نئے ایم ایس سی اور ایم فل اساتذہ کو بھرتی کیا جائے گا۔ اب ان سے یہ کام لیا جائے گا؟ اس کی وضاحت محکمہ سکولز ایجوکیشن کرنے سے قاصر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب سینٹرز تشکیل دے کر اتوار کے روز لیکچرار ٹرینرز کو 2500 کے قریب ایک لیکچر کا ادا کیا جائے گا اور ٹریننگ لینے والے ٹیچر کو صرف 500 روپے ٹریول الاؤنس ملے گا۔ فارغ ہونے والے ڈسٹرکٹ ٹیچر ایجوکیٹرز کا کہنا ہے کہ ہم 10 سال کی انتھک کوششوں سے دھوپ اور سردی میں موٹر سائیکلوں پر جا کر اپنا خون پسینہ ایک کر رہے تھے کہ اچانک ہم پر واپسی کے احکامات جاری کر دیے گئے جو قابل افسوس ہے۔ محکمہ سکولز ایجوکیشن نت نئے طریقے آزمانے کے بجائے مناسب ٹریننگ کا انتظام کرے تا کہ کسی کو مشکلات پیش نہ آئیں۔