تازہ ترین
  • بریکنگ :- مقتول صحافی حسنین شاہ اورعامربٹ میں رقم کاتنازع تھا،سی سی پی او
  • بریکنگ :- عامربٹ نےبھائی سےمل کرحسنین شاہ کےقتل کامنصوبہ بنایا،فیاض احمد
  • بریکنگ :- عامربٹ کےبھائی اور 2شوٹرزکوبھی جلدگرفتارکرلیں گے،فیاض احمد
  • بریکنگ :- حسنین شاہ کوقتل کرنےکیلئےشوٹرزکاانتظام کیاگیا،سی سی پی اولاہور
  • بریکنگ :- تفتیش شفاف ہوگی،کسی سےرعایت نہیں کی جائےگی،فیاض احمد
  • بریکنگ :- ہم سب سےپہلےملزم حیدرشاہ تک پہنچے،سی سی پی اولاہور

پی ٹی آئی کے درجن سے زائد ارکان پنجاب اسمبلی بھی ناراض

Last Updated On 16 January,2020 09:59 am

لاہور: (اخلاق باجوہ سے ) وفاق کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت کو پنجاب میں بھی سیاسی بحران کا سامنا، حکومتی اتحادیوں کی ناراضگی کے بعد تحریک انصاف کے ارکان پنجاب اسمبلی بھی میدان لگانے کو تیار، غیروں کو مناتے مناتے اپنے بھی روٹھنے لگے۔

ذرائع کے مطابق سنٹرل پنجاب کے بعد جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی بھی ناراضگی کے لیے پر تولنے لگے ہیں۔ انہوں نے اب قائمہ کمیٹیز اور اسمبلی کے دیگر معاملات میں دلچسپی لینی چھوڑ دی ہے، جنوبی پنجاب کے ایک درجن سے زائد ارکان اسمبلی رواں مالی سال میں وعدوں کے باوجود ترقیاتی فنڈز جاری نہ ہونے پر ناراض ہیں اور آئندہ سال 2020-21ء کے بجٹ میں بھی یقین دہانی کے باوجود ترقیاتی فنڈز اور ترقیاتی سکیمیں نہیں لی جا رہیں، جس کی وجہ سے حکمران جماعت پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے جنوبی پنجاب کے ارکان نے احتجاجاً پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں آنا چھوڑ دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ درجن سے زائد ارکان اسمبلی نے محکمہ خزانہ کے حوالے سے اپنے تحفظات سے وزیراعلیٰ پنجاب کو آگاہ کر دیا ہے۔ ارکان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے شکوہ کیا کہ نہ تو ترقیاتی فنڈز جاری ہو رہے ہیں اور نہ ہی ہماری ترقیاتی سکیمیں منظور ہو رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنائیں گے اس پر بھی حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ناراض ارکان کا کہنا تھا کہ حکومتی وعدے پورے نہ ہونے پر ہم اپنے حلقوں کی عوام سے نظریں نہیں ملا سکتے۔ اگر یہی حال رہا تو انتہائی اقدام پر غور کر سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود وعدوں پر عمل نہیں ہو رہا۔

یاد رہے کہ پہلے ہی تحریک انصاف کے سنٹرل پنجاب سے تعلق رکھنے والے 20 ارکان اسمبلی حکومتی وعدہ خلافیوں کے باعث ناراض ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے ممبران کی شکایات اور ان کے تحفظا ت کو دور نہ کیا گیا اور ارکان کے ناراض ہونے کی یہی رفتار رہی تو تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کے لیے کافی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور صوبے میں سیاسی بحران کا بھی اندیشہ ہے۔