اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر لگا گیٹ ہٹانے، کھیل کے میدانوں اور گرین بیلٹس سے قبضے ختم کرانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ ہاؤس دور سے واضح نظر آنا چاہیے، اسلام آباد کو وفاقی دارالحکومت رہنے دیں، اسے ہنگامہ شہر نہ بنائیں۔
عوامی پلاٹ کی حیثیت تبدیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین سی ڈی اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نقشہ لیں اور شہر میں نکل جائیں، بلاتفریق تجاوزات ہر جگہ سے ختم کرائیں، سی ڈی اے اپنے ہاتھ مضبوط کرے، افسران دفتروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے کی کمرشل مارکیٹیں پارکنگ نہ ہونے سے بند ہوگئیں، اسلام آباد کا نقشہ بدل دیا گیا، گرین بیلٹ پر گھر یا کمرشل پلازے بن گئے، شہرکے درمیان میں چلے جائیں تو دم گھٹتا ہے، اسلام آباد نیا شہر تھا اس کے ساتھ کیا کیا ؟ چیئرمین سی ڈی اے مسئلے کا حل نکالیں۔
سی ڈی اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ دنیا کے شہروں میں اب ری پلاننگ بھی کی جاتی ہے۔ جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پاکستان میں ری پلاننگ کا مطلب مال بنانا ہے۔ عدالت نے سماعت 4 ہفتے کےلیے ملتوی کر دی۔