تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد:شیریں مزاری گرفتاری کیس،سماعت 25مئی تک ملتوی
  • بریکنگ :- اسلام آبادہائیکورٹ کامعاملےکی جوڈیشل انکوائری کاحکم
  • بریکنگ :- عدالت کاوفاقی حکومت کوٹی اوآرزبناکرعدالت میں پیش کرنےکاحکم
  • بریکنگ :- آئی جی اسلام آبادشیریں مزاری کوسیکیورٹی فراہم کریں،عدالت
  • بریکنگ :- اسلام آبادہائیکورٹ کےحکم پرشیریں مزاری کورہا کردیاگیا
  • بریکنگ :- شیریں مزاری کاموبائل فون ودیگرچیزیں انہیں واپس کردی گئیں

سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کا عمل بند نہیں ہوا: وزیراعظم عمران خان

Last Updated On 03 August,2020 10:40 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کا عمل سست ضرور ہے لیکن بند نہیں ہوا۔

یہ بات وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان محاذ آرائی روکنے کی کوشش کی، ہم امن کی کوشش میں کامیاب رہے۔

عمران خان نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا عمل جاری ہے۔ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی قسم کی محاذ آرائی روکنے میں کامیاب رہا۔

وزیراعظم عمران خان نے یہ انٹرویو غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کو دیا ہے جو مکمل طور پر 5 اگست بروز بدھ کو نشر کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کو اشرف غنی کا فون، افغان امن عمل کے آخری مرحلے پر بات چیت

دوسری جانب افغانستان کے صدر اشرف غنی نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو ٹیلی فون کرکے افغان امن عمل کے آخری مرحلے پر بات چیت کی ہے۔

افغان صدر نے وزیراعظم کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد دی جبکہ دوران گفتگو کورونا وائرس کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر عمران خان نے افغانستان میں کورونا کے باعث اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے افغان حکومت کورونا وبا پر جلد قابو پا لے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے کورونا سے نمٹنے کیلئے اپنی حکومت کی پالیسی سے آگاہ کیا اور بتایا کہ پاکستان میں وبا سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ روزگار محفوظ بنانے اور معاشی سرگرمیوں کے جاری رہنے پر توجہ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے افغان امن عمل کے آخری مرحلے پر بھی بات چیت کی۔ وزیراعظم نے امن عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ افغانستان میں امن بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ امن عمل میں تیزی سے امریکا، طالبان امن معاہدے پر عملدرآمد میں تیزی آئے گی۔ افغان دھڑوں کے درمیان گفتگو کا عمل بھی جلد شروع ہونے کی امید ہے۔