تازہ ترین
  • بریکنگ :- کل رات سےجاری ریاستی دہشتگردی کی مثال کبھی نہیں دیکھی،علی زیدی

جمعیت علمائے اسلام نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا

Published On 16 November,2020 03:29 pm

لاہور: (دنیا نیوز) جمعیت علمائے اسلام نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا گلگت بلتستان میں ایک بار پھر 2018 کی تاریخ کو دہرایا گیا۔

سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا گلگت بلتستان میں انتخابات نہیں بندر بانٹ ہوئی ہے، سلیکٹیڈ اور نا اہل حکمرانوں کو گلگت بلتستان کا رزلٹ ہضم نہیں کرنے دیں گے، پاکستان کے بعد اب پی ٹی آئی کو گلگت بلتستان کا بیرا غرق نہیں کرنے دیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے گلگت بلتستان میں ہونے والی بندر بانٹ کو پی ڈی ایم کے اجلاس میں اٹھانے کا فیصلہ کیا اور کہا پی ڈی ایم کے آئندہ اجلاس میں متفقہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔

یاد رہے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے جی بی اے 6 ہنزہ سے عبیداللہ بیگ، جی بی اے 7 سکردو سے راجہ زکریا، جی بی اے 11 کھرمنگ سے امجد زیدی کامیاب قرار پائے۔ جی بی اے 12 شگر سے راجہ اعظم اور جی بی اے 13 استور سے خالد خورشید فتح یاب ٹہرے۔

جی بی اے 14 استور سے شمس الحق، جی بی اے 17 دیامر سے، حیدر خان، جی بی اے 18 دیامر سے حاجی گلبر خان جبکہ جی بی اے 20 غذر سے نذیر احمد کامیاب ہوئے۔

دوسرے نمبر پر آزاد امیدواروں نے جیت کا بگل بجا دیا۔ جی بی اے 5 نگر سے جاوید منوا، جی بی اے 9 سکردو سے وزیر محمد سلیم، 10 سکردو سے راجہ ناصر علی اور جی بی اے 15 دیامر سے حاجی شاہ بیگ نے کامیابی سمیٹی۔ جی بی اے 19 غذر سے وزیر نواز خان ناجی، جی بی اے 22 گانچھے سے مشتاق حسین اور 23 گانچھے سے حاجی عبدالحمید جیت گئے۔

پیپلزپارٹی نے چار حلقوں سے کامیابی سمیٹی، امجد حسین جی بی اے 1 گلگت اور جی بی اے 4 نگر سے کامیاب ہوئے، جی بی اے 2 گلگت سے جمیل احمد جیتے، جی بی اے 24 گانچھے سے محمد اسماعیل کامیاب ہوئے۔

مسلم لیگ ن صرف 2 سیٹیں حاصل کرسکی، جن میں جی بی اے 16 دیامر سے انجینئر محمد انور اور جی بی اے 21 غذر سے غلام محمد کامیاب ہوئے، جی بی اے 8 سکردو سے ایم ڈبلیو ایم کے محمد کاظم نے فتح سمیٹی۔

تمام 23 حلقوں کے مکمل نتائج کے بعد پارٹی پوزیشن اس طرح ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی 9 نشستیں، آزاد امیدواروں نے 7 سیٹیں حاصل کیں۔ پیپلزپارٹی 4، ن لیگ کی 2 جبکہ ایم ڈبلیو ایم کے حصے میں ایک نشست آئی۔