تازہ ترین
  • بریکنگ :- شہزاداکبربتادیں انہیں عمران خان نےنکالاہےیااستعفیٰ دیا؟شاہدخاقان
  • بریکنگ :- ساڑھے 3سال بعدپتہ چلابچہ نالائق تھا،اسےنکال دیا،شاہدخاقان
  • بریکنگ :- کوئی کہتاہےوزیراعظم نےشہزاداکبرکوچارج شیٹ کردیا،شاہدخاقان
  • بریکنگ :- شہزاداکبراپنی ساڑھے 3سال کی کارکردگی سےآگاہ کریں،شاہدخاقان
  • بریکنگ :- شہزاداکبرکہتےتھےثبوتوں کے بکسےبھرےہیں،شاہدخاقان عباسی

ن لیگ کا سینیٹ انتخابات حصہ لینے،پارلیمان میں بھرپورکردار ادا کرنے کا فیصلہ

Published On 25 January,2021 05:00 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) مسلم لیگ (ن) نے آئندہ سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے اور پارلیمان کی سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے یہ فیصلہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا۔ اجلاس کی صدارت مریم نواز شریف نے کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ ہم پارلیمان میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔ حکومت کو قومی اور عوامی ایشوز پر ٹف ٹائم دیا جائے گا۔

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ استعفوں کا فیصلہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کرے گی اور تمام جماعتیں اس کو تسلیم کرنے کی پابند ہونگی۔ حکومت سے اب کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ ن لیگی ارکان ثابت قدم پر شاباش کے مستحق ہیں۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ کے شیروں کو کوئی ڈرا نہیں سکتا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو تحریک عدم اعتماد کی تجویز لائیں، پی ڈی ایم اجلاس میں غور کریں گے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ خوشی ہے آج مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے۔ ‏جبر او زیادتیوں کے باوجود اراکین اجلاس میں شریک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‏لانگ مارچ ہوگا اور استعفے بھی آئیں گے۔ ‏موجودہ حکومت کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ‏پیپلز پارٹی کی بیک ڈور ڈپلومیسی کے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‏میں مفروضوں پر بات نہیں کر سکتی۔

لیگی رہنما نے کہا کہ ‏نااہل حکومت کی وجہ سے ملک مسائل کا شکار ہے۔ نواز شریف کا حکم ہے کہ حکومت کی نااہلی سے عوام کو آگاہ کریں۔ ہم ‏نیا نیب آرڈینیس نہیں لانے دیں گے۔ ‏جو نیب اپوزیشن کیلئے تھا، اب حکمرانوں کیلئے بھی وہی رہے گا۔

اس موقع پر ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‏تحریک عدم اعتماد کب لائیں گے، اس پر بات کی ہے، اس معاملے کو پی ڈی ایم میں لائیں گے۔