تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاکستان نے2021ایکشن پلان کے7میں سے 4نکات پرعملدرآمد کرلیا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستان نےمقررہ مدت سےپہلےخاطرخواہ پیشرفت کی،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف پاکستان کااگلاریویوفروری2022 میں کرےگا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستانی وفدکی سربراہی وزیرتوانائی محمدحماداظہرنےکی،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستان دونوں ایکشن پلانزکےاہداف کےحصول کیلئےپرعزم ہے،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف کاتمام ایکشن پلانزپرپاکستان کے عملدرآمدپراطمینان کااظہار،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف کوایکشن پلانزکےبارےمیں جامع رپورٹ پیش کردی گئی،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف نےحالیہ اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کاجائزہ لیا ،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف نےپاکستان کی نمایاں پیشرفت کوسراہا،وزارت خزانہ

ایف اے اور ایف ایس سی امتحانات میں صرف تین پرچے لئے جائیں گے، شفقت محمود

Published On 12 July,2021 09:58 pm

اسلام آباد: (دنیا نیو) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ ایف اے اور ایف ایس سی امتحانات میں طلبہ سے چار کی بجائے تین پرچے لئے جائیں گے۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے پوئے بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مکمل اور منطقی انجام تک تجزیہ کرنا چاہی۔ پچھلے چند دنوں میں نظر آیا کہ یہاں عوامی مقبولیت کے لئے سیاست کی گئی۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ یہاں امتحانات ملتوی کرنے کے مطالبے آئے۔ مجبوری کے تحت سارے پاکستان کی اکائیوں نے مل کر فیصلے کئے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت، مسلم لیگ (ن) کی آزاد کشمیر حکومت نے سارے وزرائے تعلیم کے ساتھ مل کر امتحانات لینے کا فیصلہ کیا۔ سارے وزرائے تعلیم سمجھتے تھے کہ امتحانات ہونا ضروری ہیں۔

شفقت محمود نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے بہت سے سکول بند کرنا پڑے، اس لئے بچوں کو وہ تعلیم نہیں مل سکی جو ملنی چاہیے تھی، پھر بھی وزرائے تعلیم نے امتحانات لینے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نصاب کو چالیس فیصد کم کر دیا گیا جبکہ امتحانات کی تاریخیں آگے کرتے گئے۔ تین ماہ تک امتحانات موخر کئے تاکہ طلبہ تیاری کر سکیں۔ امتحانات مرحلہ وار لینے کی وجہ آگے مختلف شعبوں داخلے ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے مجھ پر امتحان نہ لینے پر بہت پریشر ڈالا گیا جس کی معزز ممبران سے توقع نہیں تھی۔ وزرائے تعلیم کانفرنس میں امتحان لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اٹھارویں ترامیم کے بعد کوئی بادشاہوں کی طرح کسی صوبے کو حکم نہیں دے سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ تین ماہ پہلے وقت دیا پھر کہا گیا چھ ماہ کا وقت اور دیدیں، صرف بچوں سے تالیاں بجانے کے لیے سیاست کی گئی۔ ایک بقراط نے میرے بارے کہا گیا کہ پارلیمنٹ سے بھاگ گئے۔ اشتہاری تووہ ہے جو ملک سے بھاگے ہوئے ہیں، جن کے اشتہار چھپ رہے ہیں۔