تازہ ترین
  • بریکنگ :- پشاور:ملزمان کی فائرنگ سےپولیس اہلکارشہید
  • بریکنگ :- پشاور:فائرنگ کےتبادلےمیں اشتہاری ہلاک،پولیس
  • بریکنگ :- پشاور:ارمڑکےعلاقےمیں پولیس کااشتہاری کےگھرپرچھاپہ

پی ڈی ایم کا 29 اگست کو کراچی میں حکومت مخالف جلسے کا اعلان

Published On 21 August,2021 07:35 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے ایک مرتبہ پھر حکومت مخالف احتجاج شروع کرنے کا اعلان کر دیا، پہلا جلسہ 29 اگست کو کراچی میں ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال کی زیر صدارت حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جمعیت علمائے اسلام ف کے عبد الغفور حیدری، حافظ حمید اللہ، سکندر شیر پاؤ سمیت دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔

اجلاس میں ملکی سیاسی، اندرونی اور معاشی صورت حال پر مشاورت کی گئی، سٹیئرنگ کمیٹی اجلاس میں حکومت مخالف جلسوں اور مظاہروں کی تاریخوں کا ‏فیصلہ کیا جائے گا، سٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں کی حتمی منظوری 28 اگست کو ہونے والے سربراہی ‏اجلاس میں دی جائے گی۔ سٹیئرنگ کمیٹی کی حکومت کے 3 سالہ کار گردگی پر وائٹ پیپر پر مشاورت کی گئی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں 8 جماعتوں نے شرکت کی، 29اگست کو کراچی میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہو گا، ‏پی ڈی ایم ملک کی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہے، ‏پی ڈی ایم چاہتی ہے ملکی معاملات کو آئین کے مطابق چلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (‏پی ڈی ایم) ایک ایسا فورم ہے جو پاکستان میں آئین کی بالادستی کی بات کرتا ہے، ‏اجلاس کا مقصد وہ سفارشات طے کرنا تھا جنہیں 28 اگست کو سربراہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، اجلاس میں شیڈول طے کیا گیا جس کے تحت ملک میں جلسے اور ریلیاں ہوں گی، ‏28اگست کے اجلاس کے بعد اس شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‏الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا مقصد الیکشن میں چوری کو سہارا دینا ہے، ‏حکومتی انتخابی اصلاحات کا مقصد ووٹ چوری کو سہولت دینا ہے، یہ یکطرفہ انتخابی اصلاحات کی بات ہے، عوامی مشکلات میں کمی کیلئے راستہ دکھائیں گے، ‏حکومت کی 3 سالہ کارکردگی، ان کی کرپشن اور نااہلی قوم کے سامنے لائیں گے، ‏تمام حقائق اکٹھے کر کے حکومتی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کریں گے، ‏افغانستان پر پالیسی طے کرنے کیلئے پارلیمان میں بحث ہی واحد راستہ ہے۔