تازہ ترین
  • بریکنگ :- عمران خان نے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- ہم نے آئی ایم ایف پروگرام کوبحال کیا ،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت بڑھ رہی ہے،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- پٹرول کی نئی قیمت 248روپے 74پیسے ہوگی،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12بجے ہوگا،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- بجٹ میں امیرطبقے پرٹیکس لگایا ہے،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- عمران خان نےآئی ایم ایف معاہدہ توڑکر 233ارب کانقصان کیا،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- عمران خان حکومت نے لیوی 4روپےمرحلہ واربڑھانےکااعلان کیاتھا،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- عمران خان معاہدے کے مطابق پٹرول ،ڈیزل پر 70روپےٹیکس ہوناچاہیے تھا،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- حکومت ڈیزل پر 5 ،پٹرول پر 10روپے ٹیکس لے رہی ہے،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- 19لاکھ میں سے 11لاکھ گھرانوں کو 2ہزارروپے دے چکے ،مفتاح اسماعیل

ہمیں بھی ن لیگ کے اکاؤنٹس دیکھنے کی اجازت دی جائے: فرخ حبیب

Published On 15 September,2021 11:07 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) فرخ حبیب نے کہا ہے کہ اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس دیکھنے کی اجازت ہے، ہمیں بھی ن لیگ کے اکاؤنٹس دیکھنے کی اجازت دی جائے، ان کی چالاکیاں اب نہیں چلیں گی، ان کے پاس ثبوت نہیں تو قطری خط ہی لے آئیں۔

وزیر مملکت فرخ حبیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا فارن فنڈنگ کیس 5 سال سے زیر سماعت ہے، الیکشن کمیشن نے کھاتوں کی چھان بین کیلئے اسکروٹنی کمیٹی بنا رکھی ہے، اسکروٹنی کمیٹی کے متعدد اجلاس ہوچکے، الیکشن کمیشن کی ڈیوٹی ہے تمام جماعتوں کے کھاتوں کی جانچ پڑتال کرے، پی ٹی آئی، ن لیگ، پیپلزپارٹی کے کیس کی ایک ہی اسکروٹنی کمیٹی ہے، ن لیگ نے آج جواب جمع کرایا کہ اپنے اکاؤنٹس دکھانے کو تیار نہیں۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، ٹھپہ مافیا شفاف انتخابات کی مخالفت کر رہا ہے، الیکشن کمیشن کا احترام اپنی جگہ موجود ہے لیکن اسکی ذمہ داری بھی واضح ہے، تین، تین باریاں لینے والوں نے شفاف الیکشن کیلئے کوئی کام نہیں کیا، یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی ویڈیو پر ہمیں درخواستیں دینا پڑتی ہیں، ڈسکہ میں آپ ساری رات جاگ کر نوٹس لیتے ہیں، کبھی آفیشل اکاؤنٹس سے ٹویٹ ہو جاتے ہیں، کبھی پریس ریلیز آجاتی، فضل الرحمان نے الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام لگایا تھا، دیکھنا ہوگا کہ نوٹسز کا جھکاؤ ایک جانب ہی کیوں ہے۔