تازہ ترین
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 720 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.60 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 17 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 269 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 831 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی

'افغان حکومت میں تاجک، ازبک اور ہزارہ برادری کی شمولیت کیلئے مذاکرات کا آغاز'

Published On 18 September,2021 03:06 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں تمام دھڑوں کی نمائندہ حکومت کے قیام کے سلسلے میں طالبان سے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر لکھا کہ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، خصوصاً تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے طویل بات چیت کے بعد افغان طالبان کیساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک شمولیتی حکومت کی خاطر تاجک، ہزارہ اور ازبک برادری کی افغان حکومت میں شمولیت کے لیے طالبان سے مذاکرات کی ابتدا کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 40 برس کی لڑائی کے بعد (ان دھڑوں کی اقتدار میں) یہ شمولیت ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی ضامن ہو گی جو محض افغانستان ہی نہیں بلکہ خطے کے بھی مفاد میں ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے افغانستان سے متعلق حالیہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں امن نہ صرف طالبان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور تاجک صدر امام علی رحمان طالبان اور تاجکوں کو قریب لانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ افغانستان کے مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے ان دونوں دھڑوں کو ساتھ ملانا ضروری ہے۔