ڈیل کی خبریں مہنگائی کے طوفان سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے: شاہد خاقان

Published On 16 January,2022 10:16 pm

لاہور:(دنیا نیوز) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ڈیل کی خبریں مہنگائی کے بدترین طوفان سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

دنیا نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزرا پر شریف فیملی کا خوف کیوں سوار ہے، دنیا جانتی ہے، دم توڑتی حکومت سے ڈیل کون بیوقوف کرے گا۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ منی بجٹ پر جشن منانے والے عوامی غیض و غضب کا شکار ہونے کے لیے تیار رہیں ، لانگ مارچ کا بخار نا اہل حکومت کے سر پر سوار ہے، ڈیل اور چور دروازے عمران حکومت کی پہچان ہیں، تحریک انصاف حکومت کی عوام دشمنی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیلوں کی باتیں کرنے والے ملک سے فرار کی تیاریوں میں ہیں، وقت دور نہیں جب حکومتی ذمہ داران کا گلی محلوں میں محاسبہ ہو گا۔

 قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ 4 لیگی بڑوں نے خفیہ ملاقات میں نوازشریف کو قیادت سے ہٹانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔

لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تینوں بڑی جماعتوں کو ایک دوسرے پر اعتبار نہیں، سب کو ایک دوسرے پر ڈیل کا شک ہے،الیکشن آنےدیں، میدان بھی ہوگا گھوڑابھی اور ہم آپکوبتائیں گے الیکشن کیسے لڑتے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ چاروں شریف سیاست سے مائنس ہیں، اپوزیشن شکست کھائے گی، عمران خان 5 سال پورے کریں گے۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، پہلے شاید ڈھیل کی بات تھی اب ڈھیل بھی نہیں ہو گی۔ اپوزیشن اندھی وہیل مچھلیوں کی طرح ان ہاؤس تبدیلی کے خواب دیکھ رہی ہے، ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا، عدم اعتماد لائے تو اپوزیشن کے 12 کے بجائے 25 ارکان کم ہوں گے۔ جو لوگ بیمار ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں، حقیقت میں بیمار ہو جاتے ہیں۔ شہبازشریف عمران خان کیلئے ڈراونا نہیں سہانا خواب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن دو کی بجائے 3 مارچ کر لے، کچھ نہیں ہو گا۔ پارٹیوں میں ہلکی پھلکی موسیقی ہوتی رہتی ہے۔ 23مارچ کو جے 10سی طیارے فلائی پاسٹ کریں گے۔

شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ایک ہی مسئلہ مہنگائی ہے جو اپریل، مئی تک حل ہو جائے گا، بجٹ اچھا دیں گے۔ سانحہ مری پر نوجوان پولیس کے گلے پڑ رہے تھے اس لیے رینجرز بلانا پڑی۔

Advertisement