تازہ ترین
  • بریکنگ :- کراچی:عملی امتحانات ری شیڈول کرنے کیلئے کالجز کو ہدایات جاری کر دیں،ترجمان
  • بریکنگ :- کراچی:بارشوں کےپیش نظراعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ نےآج ہونے والےپرچےملتوی کردئیے
  • بریکنگ :- آرٹس ریگولر،پرائیوٹ اور خصوصی افراد کےمتحانات ملتوی کردئیے ہیں،ترجمان انٹر بورڈ
  • بریکنگ :- تمام ملتوی شدہ پرچےاب 23 اگست کو انہی مراکز میں لیےجائیں گے،ترجمان

کرونا سے نمٹنے کیلئے پالیسیوں کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی: وزیراعظم

Published On 11 February,2022 07:06 pm

اسلام آباد:(دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت انسداد کرونا کے لیے اقدامات کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا سے نمٹنے کیلئے پالیسیوں کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے میں عوام کا بھر پور ساتھ رہا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت اجلاس کو ملک میں اومی کرون کی لہر کے حوالے سے اور عالمی سطح ، خطے میں اس کے پھیلاؤ سے بھی آگاہ کیا گیا ۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ عالمی سطح پر جنوری میں اومی کرون کی بلند ترین سطح کے بعد کیسز میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے، یورپ اور امریکہ میں اس کے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے، خطے میں اس وقت کرونا سے اموات کے حوالے سے بھارت سرِ فہرست ہے، اب بھی کم و بیش ایک ہزار کے قریب لوگ روزانہ کرونا سے جاں بحق ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان میں کرونا کی نئی لہر سے یومیہ اوسطاً 42 اموات ہو رہی ہیں۔

اجلاس میں وزیراعظم نے این سی او سی اور وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے اور ویکسینیشن کو مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں ۔

اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا کے دوران مکمل لاک ڈاؤن کے بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن سے معاشی طور پر کمزور طبقے کے تحفظ کو یقینی بنایا، حکومت کی کرونا سے نمٹنے کیلئے پالیسیوں کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی، کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے میں عوام کا بھر پور ساتھ رہا، حکومت کے سمارٹ لاک ڈاؤن اقدامات میں عوام نے بھرپور تعاون کیا، لوگوں نے ویکسینیشن میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے ریلیف اور اقدامات کی بدولت صنعتوں اور دیگر معاشی سرگرمیوں پر کرونا کم سے کم اثر انداز ہوا، فرنٹ لائن ہلیتھ ورکرز کی قربانیاں اور کرونا سے نمٹنے کیلئے خدمات پر پوری قوم ان کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، پاکستانی قوم ڈاکٹروں اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔