آیا صوفیہ: قدیم تاریخی عبادت گاہ

Published On 19 February,2024 12:31 pm

لاہور: (خاور نیازی) آیا صوفیہ استنبول (ترکی) میں واقع ایک قدیم تاریخی عبادت گاہ ہے جو ماضی میں یونانی راسخ العقیدہ مسیحی فرقے سے منسلک کیتھیڈرل گرجا گھر تھا، پھر اسے عثمانی مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔

’’آیا صوفیا‘‘ کی عمارت فتح قسطنطنیہ کے بعد 481 سال تک مسجد کے طور پر مسلمانوں کی عبادت گاہ رہی لیکن سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جب ترکی کی سربراہی مصطفی کمال اتاترک کے ہاتھ آئی تو اس نے 1935ء میں اس مسجد میں نماز بند کر کے اسے ایک سیکولر میوزیم میں بدل دیا جبکہ 2020ء میں ایک بار پھر اسے ایک مسجد کے طور پر بحال کر دیا گیا تھا۔

59 لاکھ مربع کلومیٹر وسیع و عریض رقبے پر پھیلی رومن سلطنت کو 395 عیسوی میں دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا، ایک حصہ مغربی رومن سلطنت کہلایا جبکہ دوسرا حصہ مشرقی رومن سلطنت یا ’’بازنطینی سلطنت‘‘ کہلایا، اس تقسیم کے بعد سے اس کے خاتمے تک ایک ہزار سال پر محیط مشرقی رومن سلطنت ( بازنطینی سلطنت ) کی اپنی ایک تاریخی اہمیت رہی ہے۔

مشرقی رومن سلطنت میں جو بازنطینی تہذیب پنپی اس کا مذہب ’’عیسائیت ‘‘، ثقافت ’’یونانی‘‘ جبکہ انتظامی ’’سٹرکچر ‘‘رومن تھا، دونوں سلطنتوں کے مذہبی اختلافات تقسیم روم کے ساتھ ہی شروع ہو گئے تھے تاہم 1054ء عیسوی میں ان دونوں فرقوں کے درمیان باقاعدہ علیحدگی ہو گئی تھی، یوں بازنطینی عیسائی ’’آرتھو ڈاکس‘‘ جبکہ مغربی رومن سلطنت کے عیسائی ’’کیتھولک ‘‘کہلائے جانے لگے۔

آرتھو ڈاکس، کلیسا کا عالمی مرکز تھا، اس چرچ کا سربراہ ’’پیٹریارک‘‘ کہلاتا تھا اور یوں ’’آیا صوفیہ چرچ ‘‘ آرتھوڈاکس فرقے کا مرکز بن کر ابھرا، نصف مسیحی دنیا اس کلیسا کو اپنی مقدس ترین آبادی سمجھتی تھی، آیا صوفیہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ وہ روم کے کیتھولک کلیسا کے مقابلے میں زیادہ قدیم اور منظم تھا۔

’’آیا صوفیہ‘‘کی بنیاد 360 عیسوی میں رومی شہنشاہ قسطنطین نے رکھی تھی جو روم کا پہلا عیسائی بادشاہ تھا، ابتدائی طور پر یہ لکڑی کا بنا ہوا ایک کلیسا تھا، چھٹی صدی عیسوی کے آغاز میں یہ کلیسا ایک خوفناک آتشزدگی کے دوران جل گیا، جس کے بعد شہنشاہ جیسٹینین اوّل نے 532 عیسوی میں ازسرنو اس کی پختہ تعمیر شروع کرائی، جس کی تکمیل پانچ سال اور دس مہینوں میں مکمل ہوئی، کہتے ہیں اس کی تعمیر میں دس ہزار معمار اور مزدور دن رات مصروف رہتے تھے، اس زمانے میں اس تعمیراتی شاہکار کی تعمیر پر دس لاکھ پاؤنڈ خرچ آیا تھا۔

1453 عیسوی میں عثمانی حکمران سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور بازنطینیوں کو شکست فاش ہوئی تو اس شہر کے مذہبی رہنماؤں اور راسخ العقیدہ عیسائیوں نے اسی کلیسا میں اس خیال سے پناہ لے لی کہ اس عمارت پر دشمن کا قبضہ نہیں ہو سکتا، اس پناہ بارے معروف انگریز مورخ ایڈورڈ گبن لکھتا ہے: ’’گرجا کی تمام زمینی اور بالائی گیلریاں مردوں،عورتوں، بچوں، پادریوں، راہبوں اور ننوں سے بھر گئی تھیں۔

کلیسا کے اندر اتنا ہجوم تھا کہ ان میں داخلہ ممکن نہ رہا تھا، یہ سب لوگ مقدس گنبد کے سائے تلے پناہ لئے ہوئے تھے، یہ سب ایک افترا پرداز الہام کی وجہ سے تھا،جس میں یہ جھوٹی بشارت تھی کہ جب ترک دشمن اس ستون (قسطنطین ستون ) کے قریب پہنچ جائیں گے توآسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوگا اور سلطنت ایک ایسے غریب آدمی کے حوالے کر دے گا جو اس وقت اس ستون کے قریب بیٹھا ہوگا‘‘۔

کلیسا میں پناہ گزین عیسائیوں کا ہجوم آخر وقت تک کسی غیبی امداد کا منتظر رہا، بآلاخر سلطان محمد فاتح اندر داخل ہوا روایات میں آتا ہے کہ اس عمارت کے اندر داخل ہوتے ہی سلطان محمد اس عمارت کا حسن دیکھ کر مبہوت ہوگیا اور پہلی ہی نظر میں اس کے دل میں اس خواہش نے انگڑائی لی کہ یہاں تو ایک شاندار مسجد ہونی چاہئے، سلطان نے مسلمانوں کی شاندار روایات اور مذہبی رواداری کا پاس رکھتے ہوئے سب کے جان مال اور مذہبی آزادی کی ضمانت کا اعلان کر دیا۔

صوفیہ ایک چرچ ہی نہیں بلکہ مسیحی سیاسی اور عسکری مرکز بھی تھا جہاں بیشتر مسیحی جنگوں کی منصوبہ بندی بھی اسی مرکز سے ہوا کرتی تھی لہٰذا انہی وجوہات کی بنا پر سلطان محمد فاتح نے اس چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا، فتح قسطنطنیہ کے فوری بعد سلطان محمد نے پوری قیمت اپنی ذاتی جیب سے ادا کرکے اس کے حقوق مسلم سلطنت کے نام کرا دیئے، اس خرید و فروخت کی دستاویزات آج بھی انقرہ میں محفوظ ہیں۔

اس عمارت کی ملکیت حاصل کرنے کے بعد سلطان نے یہاں لگی تصویروں اور علامتی نشانیوں کو یا تو ہٹا دیا یا ڈھانپ دیا، محراب کو قبلہ رخ کر کے اس کے میناروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جس کے بعد یہ ’’جامعہ مسجد آیا صوفیہ‘‘ کے نام کی شہرت اختیار کر گئی۔

سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جب مصطفی کمال اتاترک ترکی کے سربراہ بنے تو اس نے اس مسجد کو ایک میوزیم میں بدل دیا، 31 مئی 2014ء کو ترکی میں ’’نوجوانان اناطولیہ‘‘ نامی ایک پرجوش اور متحرک تنظیم نے اس مسجد کے میدان میں نماز فجر ادا کر کے آیا صوفیہ کی بطور مسجد بحالی کیلئے اس تحریک نے ڈیڑھ کروڑ افراد کی دستخط شدہ ایک یاداشتی دستاویز حکومت وقت کے حوالے کی، جس کے جواب میں حکومت نے اس تحریک کے نمائندوں پر واضح کیا کہ اس کا آیا صوفیہ کو بطور مسجد بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اس درخواست کی منسوخی کے بعد ’’نوجوانان اناطولیہ‘‘ اور کچھ دیگر تنظیموں نے عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جس کے نتیجے میں عدالت عالیہ نے 10 جولائی 2020ء میں عوامی خواہش کا احترام کرتے ہوئے فی الفور آیا صوفیہ کی بحیثیت ایک مسجد بحالی کے احکامات جاری کر دیئے۔

ترکی کے صدر طیب اردگان نے 12 جولائی 2020ء کو اسے دوبارہ 1935ء سے قبل والی حیثیت میں بحال کرنے کے عملی احکامات جاری کر دیئے اور یوں آج ’’آیا صوفیہ‘‘ مسلم دنیا کے ایک مقدس مقام کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی میراث کی حیثیت سے بھی جانی جاتی ہے، جہاں ہر سال مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

خاور نیازی ایک سابق بینکر، لکھاری اور سکرپٹ رائٹر ہیں، ملک کے مؤقر جرائد میں ایک عرصے سے لکھتے آ رہے ہیں۔
 

Advertisement