لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات 28 فروری کو ہوں گے، ضابطہ اخلاق جاری

لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات 28 فروری کو ہوں گے، ضابطہ اخلاق جاری

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے لئے مجموعی طور پر صدر کے عہدے سمیت 4 نشستوں کے لئے 18 امیدوار مدمقابل ہیں جب کہ 32 ہزار 488 بائیو میٹرک سسٹم کے تحت رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرسکتے ہیں۔

انتخابات کے انعقاد سے قبل ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، الیکشن مہم کے دوران بینرز، فلیکس، اسٹیکرز اور دیگر پرنٹ مواد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

امیدوار صرف بغیر تصویر وزٹنگ کارڈ انتخابی مہم میں استعمال کر سکیں گے جبکہ احاطہ عدالت اور بار روم میں کسی قسم کا اشتہاری مواد لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

چیئرمین الیکشن بورڈ لہراسب گوندل کا کہنا ہے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور نتائج کے بعد فائرنگ کرنے والے امیدوار نااہل ہوں گے اور مقدمہ بھی درج ہوگا۔

ڈپٹی چیئرمین الیکشن بورڈ حسیب اللہ خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کو صاف اور شفاف بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امیدوار یا ان کے سپورٹرز کی جانب سے ایس ایم ایس کے ذریعے انتخابی مہم چلانا ممنوع قرار دیا گیا ہے تاہم واٹس ایپ کے ذریعے مہم کی اجازت ہوگی۔

مدِ مقابل امیدوار کے خلاف بیان بازی یا پریس کانفرنس پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، انتخابی مہم کے دوران مذہبی، سیاسی یا سماجی تقریبات منعقد کرنے، راؤنڈ لگانے، دعوتوں اور ضیافتوں کے انعقاد پر مکمل پابندی ہوگی۔

حسیب اللہ خان نے کہا کہ ہر امیدوار کو پانچ سے زائد وکلاء کے ہمراہ انتخابی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 2 سے 6 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے جبکہ دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں 15 لاکھ روپے جرمانہ یا نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق سپورٹرز میٹنگ میں سنگل ڈش اور ایک میٹھے کی اجازت دی گئی ہے، خلاف ورزی کی صورت میں نااہلی ہو سکتی ہے۔

امیدوار 25 سے 27 فروری تک علیحدہ الیکشن آفس قائم کر سکیں گے جہاں صرف ایک فلیکس یا بینر بمعہ تصویر لگانے کی اجازت ہوگی۔

احاطہ ہائیکورٹ اور بار میں اجتماع یا قطار بنا کر ووٹ مانگنے پر پابندی عائد ہے جبکہ انتخابی مہم پولنگ سے 24 گھنٹے قبل ختم کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن میں صدر کی نشست پر احسن بھون گروپ کے راجہ عامر اور حامد خان گروپ کے بابر مرتضیٰ کے درمیان سخت مقابلہ کی توقع کی جا رہی ہے۔