تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 21 ہزار 261 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 64 ہزار 564 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹے کےدوران کوروناسےمزید 63 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 135 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 57 ہزار 77 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کورونا کے مزید 2512 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.4 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 3 ہزار 610 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 11 لاکھ 29 ہزار 562 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 87 لاکھ 97 ہزار 433 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 5117 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 20 ہزار 615 ،سندھ میں 4 لاکھ 49 ہزار 349 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 70 ہزار 738،بلوچستان میں 32 ہزار 722 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد ایک لاکھ 3 ہزار 923 ،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 232 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 33 ہزار 682 ہوگئی،این سی اوسی

سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف مواد، وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق نے نوٹس لے لیا

Published On 22 October,2020 06:23 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا ہے کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت بھارتی لابی سوشل میڈیا کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان آنے کی دعوت دے رہا، یہ پوسٹس رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

ٹویٹر پر پاکستان کے خلاف بے بنیاد خبروں، پروپیگنڈے پر وفاقی وزیر آئی ٹی نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم منفی اور بے بنیاد خبروں کیلئے استعمال نہ ہو سکے۔

امین الحق کا کہنا تھا کہ تمام سوشل میڈیا کمپنیاں، نفرت انگیز گفتگو اور منفی خبروں کی روک تھام کی ذمہ دار ہیں۔ ٹویٹر انتظامیہ اس طرح کے پروپیگنڈے اور غیر مصدقہ خبروں پر مبنی تمام پوسٹس فوری ہٹائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا بھارتی صارفین کو کچھ بھی غلط لکھنے اور نفرت پھیلانے کی آزادی دی گئی ہے؟ مقبوضہ کشمیر یا اسرائیل پر کوئی پاکستانی پوسٹ کرے تو بلاک کر دیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ کیا اس قسم کی پوسٹیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتیں؟ سوشل میڈیا کمپنیوں کو مستقبل میں ایسے پروپیگنڈے کی روک تھام کیلئے سخت ایکشن لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان مخالف جعلی اکاؤنٹس بند کیے جائیں: پی ٹی اے کا ٹویٹر سے رابطہ

ادھر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹویٹر انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ مواد کو اعتدال پر رکھنے والی اپنی ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ پلیٹ فارم غلط معلومات کے پھیلاؤ کے لیے پروپیگنڈا ہتھیار کے طور پر استعمال نہ ہو۔

یاد رہے کہ منگل کو ٹویٹر پر پاکستان میں خانہ جنگی کے حوالے سے من گھڑت اور بے بنیاد خبریں پھیلائی گئیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ان میں سے متعدد اکاؤنٹس ٹوئٹر کی جانب سے تصدیق شدہ ہیں۔

پی ٹی اے نے ٹویٹر سے دنیا بھر سے چلنے والے اکاؤنٹس کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کیا ہے جو پاکستان کے خلاف منفی پروپیگینڈا کر رہے ہیں۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کے ریگولیٹری ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹوئٹر کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنی اپنے ملازمین کو اس حوالے سے آگاہی دے تاکہ اس پلیٹ فارم کو غلط معلومات پھیلانے والے پروپیگنڈا کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان، اس کے شہروں اور اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے غلط اور بے بنیاد معلومات پھیلانے کی موجودہ مہم کے تناظر میں پی ٹی اے نے ٹویٹر پر زور دیا ہے کہ وہ اس مہم میں شامل ہینڈلز کو مؤثر طریقے سے بلاک کرے۔

پی ٹی اے نے ٹویٹر پر مزید لکھا کہ یہ بات ریگولیٹر کے لیے مایوس کن ہے کہ بے بنیاد معلومات پھیلاؤ میں ٹویٹر کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس بھی شامل ہیں، تاہم وہ اب بھی استثنیٰ کے ساتھ کام کر رہے ہیں، پی ٹی اے نے پلیٹ فارم سے کہا کہ وہ اپنے اصولوں اور پالیسیوں کے مطابق ایسے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کرے۔