تازہ ترین
  • بریکنگ :- شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت سولرانرجی سےمتعلق ٹاسک فورس کااجلاس
  • بریکنگ :- مریم اورنگزیب سمیت ٹاسک فورس کے دیگر ارکان کی اجلاس میں شرکت
  • بریکنگ :- کمیٹی کا سولر انرجی کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ
  • بریکنگ :- سرکاری عمارتوں کوسولرانرجی پرمنتقل کرنے کا فیصلہ، وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- بجلی پرسبسڈی والےعلاقوں میں بھی سولرپلانٹس لگانےکافیصلہ،مریم اورنگزیب
  • بریکنگ :- توانائی کی بچت اورگرین انرجی کوفروغ دینےکیلئےپالیسی بنانےپر بھی غور
  • بریکنگ :- سرکاری عمارتوں کوشمسی توانائی پرمنتقل کرنےکیلئے رپورٹ مرتب کرنےکی ہدایت
  • بریکنگ :- شمسی توانائی پرمنتقلی کیلئےسولرپینلزکوفروغ دینےکی ضرورت ہے،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- سولرپینلزسےاضافی بجلی گرڈاسٹیشنزکوبھی فروخت کی جاسکےگی،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- 4 سے 5 ہزارمیگاواٹ کےمنصوبوں پرکام جلدشروع ہوگا،وزیراطلاعات

لاک ڈاؤن: 31 بچوں پر مشتمل خاندان قرنطینہ کر کے دوسروں کیلئے مثال بن گیا

Last Updated On 07 May,2020 09:00 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے، اس دوران حکومتوں کی طرف سے ہدایات دی گئی ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران والدین خود کو سماجی فاصلوں سے دو رکھنے کے لیے قرنطینہ کریں۔ اس دوران بہت سارے ملکوں میں مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ حکومتوں کی طرف سے زور دیا جا رہا ہے کہ گھروں میں خود کو قرنطینہ کریں، لیکن حیران کن ایک خبر نے سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے، خبر یہ ہے کہ ایک گھر میں 31 بچے موجود ہیں جنہوں نے خود کو آئسولین کیا ہوا ہے۔

لاک ڈاؤن میں والدین اپنے بچوں کے ساتھ طرح طرح کے مسائل کے شکار ہیں لیکن وسطی امریکی ملک کوسٹاریکا میں ایک ہی خاندان میں 31 بچے شامل ہیں جن کی بھرپور حفاظت کی جا رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وکٹر گزمان اور میلبا جامینیز نے مجموعی طور پر 37 بچوں کو گود لیا تھا جن میں سے اب 31 بچے ان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان بچوں کی عمریں 3 سے 25 برس تک ہے اور لاک ڈاؤن میں سرپرست لاک ڈاؤن کی مشکل صورتحال میں گھر تک محصور رہتے ہوئے ان کی بھرپور کفالت کررہے ہیں۔

سابق فیشن ڈیزائنر میلبا نے بتایا کہ یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے جہاں ہمیں اپنی جان بچانی ہے اور بچوں کا خیال بھی رکھنا ہے کیونکہ گزشتہ 6 ہفتے سے بچے گھروں تک رہنے پر مجبور ہیں، اس سے پہلے یہ خاندان 150 مزید بچوں کی پرورش کرکے انہیں اپنے گھر بھیج چکا ہے۔ تاہم ان کے حقیقی چھ بچوں میں سے پانچ دماغی رسولی سے چل بسے اور ایک بچہ بڑا ہوکر اپنا گھر چھوڑ چکا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق شوہر اور بیوی کی عمریں 74 اور 68 سال ہیں جو پینشن پر گزارا کررہے ہیں تاہم اطراف کے لوگ بچوں کی کفالت کے لیے عطیات دیتے رہتے ہیں۔

والدین کے مطابق ہر بچے کی فطرت مختلف ہے لیکن وہ بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ وہ اس صورتحال میں ڈپریشن کے شکار نہ ہوجائیں۔ بعض بڑے بچے گھر کے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں اور 21 سالہ ڈیوڈ سائیکل پر سودا سلف لے کر آتا ہے جس سے گھر والے کھانا پکاتے ہیں اور باقی کھاتے ہیں لیکن بچوں کو ایک حد تک سوشل میڈیا کے استعمال کی اجازت ہے تاکہ وہ کسی ذہنی تناؤ کے شکار نہ ہوں۔ اس کے علاوہ بچوں کو گھر سے ملحق باغ میں کھیلنے کے لیے بھی بھرپور وقت دیا جارہا ہے۔