86 سالہ دولہے کی 83 دلہن کیساتھ شادی، ویڈیو وائرل

Published On 27 October,2020 07:07 pm

ڈبلن: (ویب ڈیسک) آئرلینڈ کا ایک معمر جوڑا جو 40 سال سے زیادہ عرصے سے شادی کا منتظر تھا کورونا وائرس کی پابندیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے شادی کرنے میں ’سرفراز‘ہو گیا ہے۔

آئرلینڈ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے اور انہیں اس لاک ڈاؤن کے دوران شادی کرنے کے لیے بہت تگ و دو کرنا پڑی۔ شادی کرنے والا یہ جوڑا کوئی عام نہیں ہے، بلکہ بہت خاص الخاص ہے۔ اسی وجہ سے میڈیا اور سوشل میڈیا میں تذکرے ہو رہے ہیں اور انسٹاگرام میں تصویریں چھپ رہی ہیں۔

دولہے کا نام جان برمنگھم ہے۔ اس کی عمر 86 سال ہے۔ جبکہ دلہن کا نام میری لانگ ہے اور وہ اپنی زندگی کی 83 ویں بہار دیکھ رہی ہے۔ یہ سال اس کی زندگی میں شادی کی خوشیاں لے کر آیا ہے اور اس کا وہ خواب پورا ہو گیا ہے جو اس نے 40 سال پہلے دیکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایسا کیڑا جس پر سے 39 ہزار گنا زیادہ وزن گزر جائے اور فرق بھی نہ پڑے‘

جان کا تعلق آئرلینڈ کے علاقے روڈ ویڈ سے ہے۔ وہ ایک کسان ہے۔ وہ گھوڑے پالنے اور انہیں سدھانے کا بھی ماہر ہے۔ جبکہ میری خواتین کو سنوارنے اور انہیں حسین تر بنانے کی ماہر ہے۔ وہ ریٹائر ہونے تک ڈبلن میں بیوٹی کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتی رہی ہے لیکن اسکا تعلق کروک سٹی کے علاقے ٹرنر سے ہے۔

جان کے والد جیک آئرلینڈ کے رگبی کے مشہور کھلاڑی تھے، جس پر جان فخر کرتے ہیں۔ جان اور میری کی پہلی ملاقات آج سے 40 سال سے زیادہ عرصہ پہلے ہوئی اور پہلی ہی نظر میں دونوں ایک دوسرے کو دل دے بیٹھے۔ دونوں میں ملاقاتیں ہوتی رہیں، وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے رہے، ایک ساتھ زندگی گزارتے رہے لیکن 40 سال تک یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ انہیں شادی کر لینا چاہیے۔

جب وہ اپنی زندگی کے اس سب سے اہم فیصلے پر پہنچے تو دنیا بھر میں کورونا پھیل چکا تھا اور آئرلینڈ میں لاک ڈاؤن تھا۔ انہیں شادی کی جلدی تھی، مگر شادی کرانے والے اداروں کے دفاتر بند تھے۔ جیسے جیسے دن گزر رہے تھے، ان کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔

جان اور میری کی شادی کی روئداد جان کی بیٹی کیرولین برمنگھم نے ایک اخبار آر ٹی ای کو سنائی۔

یہ بھی پڑھیں: خونی لڑائی: مرغے کے پنجے سے لگا بلیڈ لگنے سے پولیس افسر ہلاک

کیرولین کہتی ہیں کہ وہ پریشان تھے لیکن آخرکار پریشانی کا حل انٹرنیٹ کی صورت میں نکلا۔ شادی کی اجازت اور رجسٹریشن کرنے والے دفتر نے آن لائن سروس شروع کر دی۔ تمام ضروری کاغذات مکمل کرنے میں وقت تو لگا لیکن سب دستاویزات اکھٹی ہو گئیں۔ اب مسئلہ جگہ کا تھا کیونکہ کرونا وائرس کی وجہ سے وہ تمام مقامات بند تھے جہاں شادی کی تقریب ہو سکتی تھی۔

آخر انہیں ایک جگہ مل گئی اور وہ تھا ٹلامور ہیلتھ سینٹر کا سول میرج روم، جہاں 40 سال سے ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا جوڑا 24 اکتوبر کو ازدواجی بندھن میں بندھ گیا۔

شادی کی یہ مختصر تقریب تھی جس میں جان اور میری کے علاوہ جان کی بیٹی کیرولین، ان کے شوہرجان فٹزگرلیڈ اور ان کی دو جڑواں بیٹیاں روبین اور ایلی سن شریک ہوئیں۔

کیرولین کے آر ٹی ای کو بتایا کہ دونوں بوڑھے ہیں لیکن میں جانتی تھی کہ وہ شادی کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے ہم نے یہ کوشش کی شادی کے تمام ضروری انتظامات کر لیے جائیں۔ ایک جانب کرونا پھیلا ہوا تھا اور دوسری طرف دفتروں کی روایتی بیوروکریسی، لیکن ٹلامور کی میرج رجسٹریشن سروس نے بہت مدد کی اور ان کی کوششوں سے میرے والد کی زندگی کے اس سب سے اہم دن کو ایک یادگار دن بنا دیا۔

کیرولین کا کہنا تھا کہ نو بیاہتا جوڑا بہت خوش ہے اور زندگی کا لطف اٹھا رہا ہے۔ میرے والد کا کہنا ہے کہ وہ شادی سے بہت خوش ہیں لیکن انہیں صرف ایک دکھ ہے اور وہ یہ کہ وہ اس اہم موقع پر سب کے ساتھ مل کر شادی کا ڈنر نہیں کر سکے۔