تازہ ترین
  • بریکنگ :- مریم اورنگزیب سمیت ٹاسک فورس کے دیگر ارکان کی اجلاس میں شرکت
  • بریکنگ :- کمیٹی کا سولر انرجی کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ
  • بریکنگ :- سرکاری عمارتوں کوسولرانرجی پرمنتقل کرنے کا فیصلہ، وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- بجلی پرسبسڈی والےعلاقوں میں بھی سولرپلانٹس لگانےکافیصلہ،مریم اورنگزیب
  • بریکنگ :- توانائی کی بچت اورگرین انرجی کوفروغ دینےکیلئےپالیسی بنانےپر بھی غور
  • بریکنگ :- سرکاری عمارتوں کوشمسی توانائی پرمنتقل کرنےکیلئے رپورٹ مرتب کرنےکی ہدایت
  • بریکنگ :- شمسی توانائی پرمنتقلی کیلئےسولرپینلزکوفروغ دینےکی ضرورت ہے،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- سولرپینلزسےاضافی بجلی گرڈاسٹیشنزکوبھی فروخت کی جاسکےگی،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- 4 سے 5 ہزارمیگاواٹ کےمنصوبوں پرکام جلدشروع ہوگا،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت سولرانرجی سےمتعلق ٹاسک فورس کااجلاس

مگر مچھوں سے بچنے کیلئے درخت پر کئی دن گزارنے والا ’مجرم‘ گرفتار

Published On 07 January,2021 05:29 pm

کینبرا: (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا، یہ کہاوت آسٹریلیا میں ایک شخص پر پوری اُتری ہے جو جنگلاتی علاقے میں بے شمار مگر مچھوں کے ڈر سے برہنہ حالت میں درخت پر چڑھ گیا اور کئی دن تک وہاں رہا، جسے مقامی ماہی گیروں کی مدد سے بچایا مگر پولیس نے اسے اس لیے دھر لیا کیونکہ وہ ایک مفرور مجرم تھا۔

فرانسیسی خبر ساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی آسٹریلیا میں واقعہ ڈارون نامی شہر کے قریب گزشتہ اتوار کے روز پیش آیا۔ کیون جوائنر اور کیم فاؤسٹ نامی دو مقامی ماہی گیروں نے مچھلیاں پکڑنے کے بعد سمندر سے واپسی پر دیکھا کہ ساحلی علاقے میں درختوں کے ایک جھنڈ میں ایک ایسا شخص ایک درخت پر بیٹھا ہوا تھا، جو برہنہ تھا اور مد د کے لیے پکار رہا تھا۔

کیون جوائنر نے بتایا کہ وہ بلند آواز میں مدد کی درخواست کر رہا تھا۔ ہم نے اس بے لباس شخص کی درخت سے نیچے اترنے میں مدد کی۔ اس کا سارا جسم خشک ہو چکے کیچڑ میں لتھڑا ہوا تھا اور اس پر جگہ جگہ مچھروں کے کاٹنے کے نشانات تھے۔

ماہی گیروں نے بتایا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ یہ شخص اس درخت پر کیا کر رہا تھا۔ ان کی رائے میں وہ کئی دنوں سے اس درخت پر چڑھا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: دادی نے اپنی پوتی کو ’جنم‘ دیدیا

کیم فاؤسٹ کے مطابق اسے مدد کی ضرورت تھی، وہ جسمانی طور پر پانی کی کمی کا شکار ہو چکا تھا۔ ہم نے اسے پہننے کے لیے شارٹس دیں، پینے کے لیے ایک بیئر اور پھر اسے ڈارون پہنچا دیا۔

ان دونوں مقامی ماہی گیروں نے اس شخص کو علاج اور طبی دیکھ بھال کے لیے ڈارون شہر کے ایک ہسپتال میں پہنچا دیا تھا۔ جب پولیس کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو ایک پولیس ٹیم اس لیے ہسپتال پہنچ گئی کہ حقائق کا پتا چلا لیا جائے۔

جب پولیس اہلکار ہسپتال پہنچے تو انہوں نے وہیں پر اس شخص کو گرفتار کر کے اس کے کمرے کے باہر گارڈ بٹھا دیا۔ وجہ تھی کہ یہ شخص ماضی میں مسلح ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں سزا یافتہ تھا اور اپنی ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مفرور اور لاپتا ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شادی کے دو ہفتوں کے بعد بیوی ’مرد‘ نکلی

اس مفرور مجرم کو بچانے والے دونوں ماہی گیروں کو جب اس کے مطلوب ہونے کی وجہ سے گرفتاری کا علم ہوا، تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں تو اس نے کہا تھا کہ وہ راستہ بھول گیا تھا اور پھر مگرمچھوں کے خوف سے پانی میں نہاتے ہوئے برہنہ ہی ایک درخت پر چڑھ گیا تھا۔ ہم تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ ماضی میں مسلح ڈکیتیوں کا مرتکب ہوا تھا۔

یہ مجرم اس وقت پولیس کی نگرانی میں رائل ہسپتال ڈارون میں زیر علاج ہے اور ہسپتال سے فارغ کیے جانے کے بعد اسے جیل منتقل کر دیا جائے گا۔