کورونا وائرس: سخت لاک ڈاؤن پر بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے معافی مانگ لی

Last Updated On 30 March,2020 04:55 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) بھارت میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کی تعداد کے بعد ملک کو سخت لاک ڈاؤن کیے جانے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندری مودی نے اپنی عوام سے معافی مانگ لی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق نریندر مودی نے اپنے خطاب میں عوام سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں سخت اقدامات پر معافی مانگتا ہوں جو آپ کی زندگی میں مشکلات کا سبب بنے، خاص کر ملک کے غریب عوام سے معافی مانگتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ مجھ سے ناراض ہیں مگر یہ سخت اقدامات ہی اس جنگ کو جیتنے کے لیے ضروری ہیں۔

بھارتی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ملک کے غریب یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کس طرح کا وزیراعظم ہے جس نے ہمیں اتنی مشکل میں ڈال دیا لیکن لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، اب تک جو اقدامات کیے گئے وہی بھارت کو کورونا کے خلاف فتح دلائیں گے۔

واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 29 ہوچکی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے ملک میں کورونا کی روک تھام روکنے کے لیے 21 روز کے سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جسے جنتا کرفیو کا نام دیا گیا اور یہ بھارت میں 25 مارچ سے نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے کورونا کے باعث 22 ارب ڈالر سے زائد کے پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے جس کے ذریعے غریب افراد کو کیش اور اشیائے خوردونوش فراہم کی جائیں گی۔

اس سے قبل دنیا بھر میں کرونا وائرس تیزی سے زندگیاں نگلنے لگا۔ جان لیوا وبا نے 199ممالک میں 34 ہزار سے زائد انسانوں کی زندگیاں چھین لیں، متاثرین کی تعداد 7 لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک میں دو لاکھ اموات ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔ امریکا میں لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلہ رکھنے کی تاریخ 12اپریل سے بڑھا کر 30 اپریل کر دی گئی۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے اموات کا سلسلہ نہ تھم سکا۔ چوبیس گھنٹوں میں اٹلی میں 756 ریکارڈ کی گئیں، مرنے والوں کی تعداد 10 ہزار 779 تک پہنچ گئی جبکہ 10 ہزار 700 سے زائد مزید شہریوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی، متاثرین کی تعداد 97ہزار سے بڑھ گئی۔

امریکا میں بھی کیسز میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے، چوبیس گھنٹوں میں متاثرین کی تعداد 1 لاکھ 42 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ 1 دن میں 251 امریکی ہلاک ہوئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں دو لاکھ اموات ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا، کہتے ہیں خوفناک صورتحال کا سامنا ہے، امریکی صدر نے امریکا میں لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلہ رکھنے کی تاریخ 12 اپریل سے بڑھا کر 30 اپریل کر دی۔

امریکی میڈیا کے مطابق صرف ریاست نیویارک میں کورونا وبا سے مرنے والے افراد کی تعداد 1026 ہو چکی ہے جب کہ امریکا میں پائے جانے والے مجموعی کیسز میں سے آدھے نیویارک میں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خبر دار کیا ہے کہ امریکا میں وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ایک سے دو لاکھ تک ہو سکتی ہے۔


سپین میں بھی ایک ہی دن میں 861 افراد لقمہ اجل بنے، چین میں اب تک تین ہزار تین سو چار افراد ہلاک ہوچکے ہیں، فرانس میں292، برطانیہ 209، نیدرلینڈز میں 132 جبکہ ایران میں مزید 123 اموات ہوئیں۔

انڈونیشیا میں مزید 12، ملائیشیا 8، سعودی عرب 4، لبنان 2، متحدہ عرب امارات اور مراکش میں مزید ایک ایک شہری جاں بحق ہوئے۔ مہلک کرونا وائرس کو روکنے کے لئے سعودی عرب نے چوتھے شہر جدہ کو بھی لاک ڈاؤن کر دیا۔

سنگاپور نے سیلف آئی سولیشن کی خلاف ورزی کرنے والے شہری کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا، جنوبی کوریا نے بھی ملک میں آنے والوں پر 2 ہفتوں کی سیلف آئی سولیشن کو لازمی قرار دے دیا ہے۔