تازہ ترین
  • بریکنگ :- مردان : وفاقی حکومت مدت پوری کرے گی، مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- قوم کوفارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کاانتظارہے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- شیریں مزاری کی گرفتاری پرانی ایف آئی آرکےتحت ہوئی، فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ملکی استحکام کیلئے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ملک کوعمران خان دورکی تباہ کاریوں سےنکالناچیلنج ہے،فضل الرحمان

’امن چاہتے ہیں‘ امریکا کا تائیوان کو مزید ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان

Published On 27 October,2020 05:09 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) امریکا نے تائیوان کو ساحلی دفاعی نظام فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکا گزشتہ ہفتے بھی تائیوان کو میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے چکا ہے۔ یہ اقدامات چین کو مزید طیش دلا سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تائیوان کو بوئنگ کا تیار کردہ ہارپون کوسٹل ڈیفینس سسٹم فروخت کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس کی مالیت 2.37 ارب ڈالر ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا آبنائے تائیوان میں مستقل امن و استحکام چاہتا ہے اور نہ صرف تائیوان بلکہ انڈو پیسیفک خطے کی سلامتی اور استحکام کو بھی مرکزی خیال کرتا ہے۔

تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس ڈیل سے خطے میں فوجی توازن نہیں بدلے گا۔ ہارپون میزائلوں سے نہ صرف سمندری بلکہ زمینی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

بوئنگ کمپنی کے مطابق ان کے تیار کردہ یہ میزائل جی پی ایس سسٹم استعمال کرتے ہیں اور 500 پاونڈ وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ میزایل ساحلی دفاعی مقامات، زمین سے ہوا تک مار کرنے والی میزائل مقامات، ہوائی جہازوں، سمندری جہازوں اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تائیوان کے معاملے پر امریکا آگ سے نہ کھیلے: چین کی دھمکی

امریکا کی طرف سے ساحلی دفاعی نظام ایک ایسے وقت میں فروخت کیا گیا ہے، جب چند روز قبل ہی تائیوان کو مزید تین دیگر اسلحے کے نظام فروخت کیے گئے ہیں۔ ان میں ایف سولہ جنگی طیاروں کے لیے سینسرز، کروز میزائل اور آرٹلری کے نظام شامل ہیں اور ان کی کل مالیت 1.8 بلین ڈالر بنتی ہے۔

ماہرین کے مطابق جواب میں چین ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے، جن کے بنے ہتھیار تائیوان امریکا سے خرید رہا ہے۔ ان میں بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن اور دیگر امریکی دفاعی کمپنیاں شامل ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے عندیہ دیا ہے کہ قومی مفاد میں ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جو تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کے عمل میں برا کردار ادا کر رہی ہیں۔

چین کی برسر اقتدار کمیونسٹ پارٹی تائیوان کو ابھی تک چین کا حصہ تصور کرتی ہے۔ تائیوان 1949 کی چینی سول جنگ کے دوران الگ ہو گیا تھا۔ چین کئی مرتبہ اس پر دوبارہ قبضہ کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔

دوسری جانب امریکا بھی ایک عرصے سے تائیوان کی حمایت کرتا آ رہا ہے اور اس حوالے سے واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کے مابین اختلافات بڑھتے چلے آئے ہیں۔ امریکا کے جزیرے تائیوان کی جمہوری حکومت کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن دونوں ملک ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔